بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سونے کے نصاب کو زکوۃ کامعیار بنانا


سوال

یہاں جاپان میں مفتیان کرام چاندی کے نصاب کو معیار بناکر زکوۃ کے نصاب کو مقررفرماتے ہیں جبکہ دیگر مفتیان کرام کی نظراس بات پر ہے کہ سونے کے نصاب کو زکوۃ کے لیے معیار بنایا جائے کیونکہ چاندی کے نصاب کا معیارغناء کے لیے ناکافی ہے۔۔۔ کیونکہ جاپان میں چاندی کے نصاب کے مطابق تقریبا اسی ہزارجاپانی بنتے ہیں ۔جبکہ یہاں جاپان میں اسی ہزار جاپانی کی قدر کچھ زیادہ نہیں ہے،کیونکہ یہاں عمومی طورپرگھر کا کرایہ ساٹھ ہزارجاپانی سے ستر ہزارجاپانی ہےاورماہانہ گھریلو کم ازکم خرچ تقریبا پچاس ہزارجاپانی ہے جبکہ بجلی، پانی اور گیس کا خرچ علیحدہ ہے،یہ مقداراس ملک کے حساب سے غنی کا نہیں بلکہ غریب کا تصور کیا جاتا ہے تو اہل جاپان کے لیے سونے کے نصاب کو زکوۃکا معیار بنانے کے بارے میں استفتاء مطلوب ہے۔

جواب

 واضح رہے کہ موجودہ  دورمیں ہرملک کی کرنسی کو ثمن عرفی کی حیثیت حاصل ہے، چنانچہ اتنی مالیت کی کرنسی جس کے پاس ہو کہ جس سے سونے یا چاندی میں سے کسی ایک کابھی نصاب خریداجا سکے، تو وہ شخص صاحب نصاب شمارہوگا،اور فقہاء کرام کے ہاں اس پر زکوۃ و قربانی واجب ہوگی۔ عصر حاضر میں صورتحال یہ ہے کہ سونے چاندی کی مالیت میں کافی تفاوت آیا ہے، لیکن فقہاءکرام کی تصریحات کے مطابق زکوۃ میں جو انفع للفقراء ہواس کا اعتبار ہوتا ہے،چونکہ موجودہ دور میں چاندی کا نصاب سونے کے مقابلے میں بہت کم قیمت کا ہوتا ہے،اس لیے کرنسی(ثمن عرفی) میں نصاب کا موازنہ چاندی کی قیمت کے ساتھ کرنے میں فقراء کا نفع ہے۔

 اگر سونے کو نصاب بنایا جائے،تو یہ احتیاط کے منافی ہوگا کیونکہ بے شمار لوگ ایسے ہوں گے جو چاندی کے نصاب کے اعتبارسے صاحب نصاب ہوں گے  لیکن سونے کے نصاب کے اعتبار سےصاحب نصاب نہ ہوں گے،چنانچہ وہ زکوۃ ادا نہیں کریں گے، بلکہ زکوۃ وصول کریں گے،حالانکہ وہ ایک نصاب کے مالک بھی ہوں گے، چونکہ عبادات میں احتیاط کا پہلو راجح ہوتا ہے اس لیے چاندی کے نصاب پر فتوی دیا جاتا ہے، نیز چاندی کا نصاب  انفع للفقراء بھی ہے، اس لیے بھی اس پر فتوی راجح ہے،اور اس میں کوئی حرج یا مشقت اس لیے  نہیں کہ صاحب نصاب کے پاس جتنا مال ہوگا،اسی تناسب سے اس پرزکوۃ لازم ہوگی،اگر مال کم ہو توزکوۃ بھی کم ہوگی اگر مال زیادہ ہو توزکوۃ بھی زیادہ ہوگی۔

 

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب.(الهداية في شرح بداية المبتدي،ج:1،ص:103)

ألا تری أنه لوکان بالتقویم بأحدھما یتم النصاب وبالآخر لا فإنه یقوم بما یتم به النصاب نظراً للفقراء واحتیاطاً.(البدائع الصنائع في معرفة الشرائع،ج:2،ص:417)

ولو ضم أحد النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به لكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا  (الفتاوی الہندية‏‏‏،۔ کتاب الزکوۃ،۔ الباب الثالث فی زکوۃ الذہب والفضة۔،الفصل الاول،۔ ج:1۔ ص:241)

أن التقويم إنما يكون بالمسكوك عملا بالعرف (مقوما بأحدهما) إن استويا، فلو أحدهما أروج تعين التقويم به؛ ولو بلغ بأحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به، ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومه بالأنفع للفقير(ردالمحتار علی الدرالمختار،۔ کتاب الزکوۃ،۔ باب زکوۃ المال۔، ج:3۔ ص:228)


فتویٰ نمبر : 10582/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں