بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نذر کی رقم شوہر کو دینا


سوال

ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالی نے اسے بیماری سے شفا دی تو وہ اپنا سونا یا اس کی قیمت کسی غریب پر صدقہ کرے گی۔ بعد ازاں اللہ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ اس نے نذر کی کچھ رقم ایک غریب خاتون کو دے دی، لیکن پھر اس کا شوہر خود مالی تنگی کا شکار ہو گیا۔ کیا وہ عورت نذر کی باقی رقم اپنے شوہر کو دے سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس چیز کی نذر مانی گئی ہوتو وہ چیز جس طرح مالدار کو نہیں دے سکتے اسی طرح  اصول وفروع  کو بھی نہیں دے سکتےاور میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے کو  نہیں دے سکتا۔

صورت مسؤلہ كے مطابق بیوی کے لیے نذر کی رقم شوہر کو دینا جائز نہیں  کسی اور مستحق شخص کو دے۔

 

مصرف الزكاة و العشر: هو الفقير، وهو من له أدنى شيء ... و هو مصرف أيضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر و غير ذلك من الصدقات الواجبة .( ردا لمحتار على الدر المختار ،كتاب الزكوة، باب مصرف الزكوة والعشر،ج:2ص:339)

ولايدفع إلى امرأته للإشتراك في المنافع عادة، ولاتدفع المرأة إلى زوجها عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، كتا ب الزكوة ،الباب السابع في المصارف،ج:2،ص:189)


فتویٰ نمبر : 10500/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں