بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نذر کی ادا ئیگی میں قیمت کا اعتبار


سوال

ایک عورت نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے اس بیماری سے شفا دی تو میں اپنے اس سونے کو یا اس کی قیمت کو صدقہ کروں گی۔ بعد ازاں اللہ نے اس سے شفا دی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ جس وقت اس نے نذر مانی تھی اس وقت سونے کی قیمت دو لاکھ روپے تھی اور اب سونے کی قیمت دو لاکھ پچاس ہزار روپے ہے۔ اب اس کی ذمے کس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا؟

 

جواب

واضح رہے کہ نذر میں جو چیز مخصوص کی جائے، تو وہی چیز یا اس کی قیمت  کسی مستحق (غریب یا مسکین) پر صدقہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 

 صورت مسؤلہ کے مطابق جب  اس عورت نے  نذر مانی کہ "اگر مجھے شفا مل گئی تو میں سونا یا اس کی قیمت صدقہ کروں گی"، اور پھراللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرما دی ، تواگر وہ سونا خود صدقہ کرے، تو نذر پوری ہو جائے گی۔اور اگر وہ سونے کی قیمت صدقہ کرنا چاہے،   تونذر کی ادائیگی کے وقت بازارمیں سونے کی قیمت ہو، اُسی دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا  اُس دن کی  قیمت کا نہیں جس دن نذر مانی گئی تھی۔

 

 (وجاز دفع القيمةفي زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القیمة یوم الوجوب، وقالا: یوم الأداء .… ویقوم في البلد الذي المال فیہ ولو في مفازۃ، ففي أقرب الأمصار إلیہ.إن المعتبر عندہ فیہا یوم الوجوب، وقیل یوم الأداء، وفي المحیط یوم الأداء بالإجماع وهو الأصح فهو تصحیح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعلیہ فاعتبار یوم الأداء یکون متفقا علیہ عندہ وعندهما. (الدرالمختار مع رد المحتار،باب زكاة الغنم،ج:2،ص:276)


فتویٰ نمبر : 6283/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں