بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بے ہوشی کی حالت میں نماز میں رکوع کا رہ جا نا


سوال

اگر کسی شخص کو دورانِ نماز امام کے ساتھ  اچانک بے ہوشی طاری ہو جائے، جس کے باعث وہ رکوع ادا نہ کر سکے، اور بعد میں اسے یاد آئے، تو کیا اس کی نماز ادا ہو گئی ہے یا اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ بے ہوشی کا طاری ہونا نواقضِ وضو میں سے ہے۔ چنانچہ اگر نماز میں بے ہوشی طاری ہو جائے،خواہ قلیل مقدار میں ہو یا زیادہ، تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں، جب نمازی پر نماز کے دوران بے ہوشی طاری ہوئی، تو اس کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ اب اگر وہ دوبارہ وضو بنا کر بات چیت کیے بغیر اپنی نماز کو برقرار رکھتا اور رکوع بھی کر لیتا ، تو اس کی نماز ادا ہو جاتی ،  لیکن اگر اس نے نیا وضو نہیں بنایااور اس  سے نماز میں  رکوع بھی  رہ گیا تھا ،تو  اس کی نماز ادا نہیں ہوئی۔ لہٰذا اس پر اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔

 

(ومنها الإغماء والجنون والغشي والسكر) الإغماء ينقض الوضوء قليله وكثيره وكذا الجنون والغشي والسكر في هذا الباب أن لا يعرف الرجل من المرأة عند بعض المشايخ وهو اختيار الصدر الشهيد والصحيح ما نقل عن شمس الأئمة الحلواني أنه إذا دخل في بعض مشيته تحرك كذا في الذخيرة. (الفتا وى الهندية ،کتاب الطهارۃ،الباب الاول فی الوضوء،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء،ج:1،ص:12)

من سبقه حدث توضأ وبنى، كذا في الكنز، والرجل والمرأة في حق حكم البناء سواء، كذا في المحيط.( الفتاوى الهندية،الباب السادس في الحدث في الصلوة،ج:1،ص:٩93)


فتویٰ نمبر : 10500/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں