بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

"زن طلاق " کے الفاظ سے طلاق کا وقوع


سوال

میں نے اپنی بیوی کو محض غصے یا کسی اور مقصد سے پشتو میں "زن طلاق" کہا، مگر میرا طلاق دینے کا ارادہ بالکل نہیں تھا، صرف زبانی کہا تھا، تو کیا ایسے الفاظ سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

  لفظ طلاق سے طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے ،جب شوہر لفظاً یا معنا ًاس کی نسبت بیوی کی طرف کرے،ورنہ طلاق واقع نہیں ہوتی۔چونکہ آج کل پختون معاشرے میں"زن طلاق" کا لفظ بطور تکیہ کلام استعمال ہوتا ہے۔عموماً ان الفاظ سے  طلاق واقع کرنے کی نیت نہیں ہوتی ،لہذا عام حالات میں "زن طلاق" بطور تکیہ کلام استعمال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، تاہم اگر کوئی اس لفظ کی نسبت بیوی کی طرف کرتے ہوئےطلاق کی نیت سے استعمال کرے تو طلاق واقع ہو جائےگی۔          

    صورت ِمسؤلہ میں اگر مذکورہ شخص نے بیوی سےیہ الفاظ" زن طلاق" محض سب وشتم  اورمروجہ عرفی اصطلاح کے طور پر استعمال کیے ہوں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

 

 الطلاق ‌على ‌ضربين صريح وكناية.... ولو قال أنت مطلقة " بتسكين الطاء " لا يكون طلاقا إلا بالنية " لأنها غير مستعملة فيه عرفا فلم يكن صريحا.(الهداية،كتاب الطلاق، باب ايقاع الطلاق،ج:2،ص:378)

إن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لابد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليهاعالما بمعناه، ولم يصرفه إلى ما يحتمله.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،مطلب في قول البحر،،ج:3،ص:250)

(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب ركن الطلاق،ج:3،ص:230)


فتویٰ نمبر : 7177/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں