بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

بلاعذر سوا ر ہوکر طواف وسعی کرنا


سوال

معتمر نے بلا عذر طواف و سعی سوار ہوکر کرلی اور حلال ہوگیا تو اس کا  کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ جو شخص عمرہ کا طواف اور سعی پیدل کر سکتا ہواس کے لیے طواف اور سعی پیدل کرنا واجب ہے اور یہ دونوں  علیحدہ علیحدہ واجب ہیں۔

اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کےپیدل چلنے کو ترک کرکے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے ،تو اس شخص پر اس طواف کا اعادہ اور لو ٹانا ضروری ہوگا،جب تک وہ مکہ میں موجود ہے اس وقت تک اس پر اس طواف کا اعادہ ضروی ہے لیکن اگرکوئی شخص اپنے اہل وعیال کی طرف جائے اور اعادہ نہ کیاہو تو اس پر دم  دینالازم ہوگا،اسی طرح سعی میں بھی پیدل چلنا واجب ہے ،اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے سوار ہو کر سعی کرے گا تو اس پر اس کا اعادہ اور لوٹانا ضروری ہو گا جب تک وہ مکہ میں موجود ہے لیکن اگر اعادہ نہ کیا اور اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹ گیا تو اس پر بھی دم لازم ہوگا ۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر کسی شخص نے بلا عذر سوار ہوکرطواف اور سعی کی اور حلال ہوگیاتو جب تک وہ مکہ میں ہو اعادہ کرلے لیکن اگر بغیر اعادہ کے اپنے  اہل وعیال کی طرف لوٹ گیا تو اس پر دم واجب ہوجائےگا۔

 

‌ولو ‌طاف راكبا أو محمولا أو سعى بين الصفا والمروة راكبا أو محمولا إن كان ذلك من عذر يجوز ولا يلزمه شيء، وإن كان من غير عذر فما دام بمكة فإنه يعيد، وإذا رجع إلى أهله فإنه يريق لذلك دما عندنا كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية ،کتاب الحج،باب الخامس في کیفیة أداء الحج، الفصل الخامس في الطواف والسعي، ج:1، ص:247)

ولو سعى راكبا من غير عذر لزمه دم إن لم يعده؛ لأن المشي واجب وترك الواجب من غير عذر يوجب الدم، ولو أعاده بعد ما حل وجامع لم يلزمه دم؛ لأن السعي غير مؤقت في نفسه إنما الشرط أن يأتي بعدالطواف، وقد وجد.  (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ،كتاب الحج،باب الجنايات في الحج،ج:3،ص:25)


فتویٰ نمبر : 10496/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں