بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی میں حصوں کے تفاوت کے باجودبرابرپیسےدینا اور گوشت کی برابرتقسیم کرنا


سوال

دو آدمی ایک  قربانی کےجانور میں شریک ہیں اس طورپر کہ ان میں ایک کےچارحصےہیں جبکہ دوسرے  کےتین حصےہیں،لیکن یہ دونوں  باہم رضا مندی سے یہ چاہتےہیں کہ پیسے بھی نصف نصف دیں گے اورگوشت کی تقسیم بھی برابربرابر ہوگی ،کیاان دونوں کی اس طورپر شرکت جائز ہےیانہیں ؟ اگر جائز نہیں تومتبادل صورت کیاہوگی؟  

جواب

واضح رہےکہ قربانی میں شرکت کےلیےضروری ہےکہ شرکاء میں کسی کاحصہ ساتویں(7/1)سے کم نہ ہو،نیزقربانی میں شرکاءکے حصوں کی تعیین عموما پیسوں سے کی جاتی ہے،چنانچہ جس  شریک کے جتنےپیسے ہوں گےاس کے بقدر وہ قربانی میں  شریک  ہوگا،البتہ  اگر شرکاے قربانی میں سے کوئی شریک دوسرےکی طرف سے تبرع اوراحسان(ہدیہ وغیرہ)کے طورپرپیسے زیادہ دے تویہ جائز ہے۔ نیزواضح رہےکہ شرکا ےقربانی کے درمیان  گوشت کی تقسیم وزن سے ضروری ہے(ہر شریک کے حصے کے بقدر)، کیونکہ گوشت کی  تقسیم میں" مبادلہ(باہم ایک دوسرے کو عوض کےبدلہ مالک بنانے)"  کا معنی پایاجاتاہے،اوردونوں طرف گوشت از قبیل موزونات  ہونے کی وجہ سےاموال ربویہ میں سےہےجس  کاتبادلہ تخمینہ اور اٹکل سے جائز نہیں ورنہ کمی اورزیادتی کےقوی احتمال کی  وجہ سے اس میں ربا(سود)کا خدشہ ہے،لہذااگر قربانی کاگوشت آپس میں تخمینہ (اٹکل اوراندازہ  ) سے تقسیم کیاجائےتویہ جائز نہیں ،اگرچہ شرکا باہم  راضی ہوں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  حصوں میں تفاوت کے باوجود دنوں  شرکا کا باہم رضامندی سےآدھے آدھے  پیسے دینااس طورپرجائز ہوسکتاہے کہ  تین حصے والے کی طرف سےآدھےحصہ کی رقم دوسرے شریک کے حق میں  تبرع اوراحسان ہوجائے،لیکن گوشت حصوں کے بقدروزن سےہی تقسیم ہوگی نہ کہ اندازہ اور تخمینہ سے۔البتہ  اگر دونوں شرکا  کے حصہ میں گوشت کےساتھ کوئی ایسی چیز بھی رکھی جائےجو وزن سے فروخت نہیں ہوتی جیسے:سری، پائے،چمڑا وغیرہ تو پھر وزن(تول) کیے بغیر محض اندازہ سے  بھی گوشت کی تقسیم جائز ہوگی۔

وإذا كان الشركاء في البدنة أو البقرة ثمانية لم يجزهم؛ لأن نصيب أحدهم أقل من السبع، وكذلك إذا كان الشركاء أقل من الثمانية إلا أن نصيب أحدهم أقل من السبع.(الفتاوى الهندية، کتاب الاضحية، الباب الثامن فیما یتعلق بالشركة في الضحایا، ج:5، ص:305)

(ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد صرفا للجنس لخلاف جنسه) وقال ابن عابدین تحته:(قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة.وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة خلافا لما بحثه في الشرنبلالية من أنه فيه بمعنى لا يصح ولا حرمة فيه (قوله إلا إذا ضم معه إلخ) بأن يكون مع أحدهما بعض اللحم مع الأكارع ومع الآخر البعض مع البعض مع الجلد عناية.(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الأضحية، ج:6، ص:317)

ولو اشترى عشرة عشر أغنام بينهم فضحى كل واحد واحدة جاز، ‌ويقسم ‌اللحم بينهم بالوزن، وإن اقتسموا مجازفة يجوز إذا كان أخذ كل واحد شيئا من الأكارع أو الرأس أو الجلد.(الفتاوى الهندية، کتاب الأضحية، الباب الثامن فیما یتعلق بالشركة في الضحایا، ج:5، ص:306)


فتویٰ نمبر : 10535/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں