بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

بھنگ کی کاشت کےلیے زمین اجارہ پردینااور اس کے متعلقہ احکام


سوال

ہمارے علاقے میں لوگ اپنی زمین میں ،یاکسی سے اجارے پر زمین لیکر اس میں بھنگ کاشت کرتے ہیں، باوجود یہ کہ ان زمینوں میں دیگر غلہ جات بھی کاشت ہوسکتےہیں،مثلاً گندم ،مونگ پھلی ،جوار اور سبزیاں وغیرہ ،لیکن خنزیر وغیرہ جانور بھنگ کے علاوہ دیگر فصلوں کو خراب کرتے ہیں،تو اس تناظر میں سوالات یہ ہیں کہ:1۔  ایسی زمین کو اجارے پر دینا یا اس میں بھنگ کاشتکاری کرنا کیسا ہے؟ 2۔ اس میں جو لوگ کام کرتے ہیں، مثلاً  :  بھنگ کی صفائی کرنا ، یا اس کی چوکیداری کرنا ، یا اسکو کاٹنا وغیرہ ، کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟3۔ ان لوگوں کےلیے کھاناوغیرہ پکاکر اس کےبدلے پیسے لینا جائز ہےیا نہیں؟ 4۔ اس بھنگ کے پیسوں سے کسی کے لیے سولر وغیرہ لگانا کیسا ہے؟  

جواب

واضح رہے کہ   کسی کو عوض کے بدلے  منافع کا مالک بنانا"اجارہ"کہلاتاہے،اگرکوئی شخص کسی مملوکہ زمین کو اجارہ پردےدے تواجرت کامستحق ہوگا،  لیکن اگرزمین ایسےکام کےلیے اجارہ پردے جو شرعاجائز نہ ہوتوتعاون علی الاثم کے پیش نظر اجارہ مکروہ  ہوگا،نیز ایسے عمل کےبدلے اجرت لینا جائز ہے جو فی نفسہ جائز ہو۔ نیز یہ بھی واضح رہےکہ حرام مال اگرکسی پر صدقہ کیاجائے، تو مصدق علیہ(جس پرصدقہ کیاگیاہو)کےلیے اس کا استعمال جائز ہے اگرچہ مصدِّق(صدقہ کرنے والے )  کےلیے موجبِ ثواب نہیں ۔             

لہذامسئولہ صورتوں کے جوابات یہ ہوں گے:1۔بھنگ نشہ آورہونے کی وجہ سےحرام ہے ،تو اس کی کاشت بھی  حرام ہے،لہذااپنےاہل وعیال کو حرام سے محفوظ  رکھنے اوراپنی عاقبت کو تباہی سے بچانے کےلیے بھنگ کےعلاوہ دیگرفصلیں کاشت کی جائیں اورصرف موہوم  حیلوں بہانوں سے اپنے آپ کو طفل تسلی دےکر راہ جواز تلاش نہ کی جائے،البتہ  بھنگ کی کاشت کےلیے زمین اجارہ پر دینا جائز ہے،اوراس کی اجرت(کرایہ )لیناجائز اورحلال ہے، لیکن بہتر یہ  ہےکہ نہ دی جائے، تاکہ حتی الوسع مکروہ/مشتبہ مال سے بچاجاسکے۔

2۔ جولوگ ان کھیتوں میں کام کرتےہیں ان کےلیے اپنے عمل (کٹائی ،صفائی اورچوکیداری وغیرہ)کےبدلے اجرت لیناجائز ہے،لیکن بہتر ہے کہ اپنے لیے دوسری جگہ کام تلاش کریں۔

3۔ ان لوگوں کےلیے کھاناپکاکراس کی اجرت لینا بھی جائز ہے۔

4۔ ان بھنگ کےپیسوں سےمستحقین کےلیے بہ نیتِ صدقہ(ثواب کی امید لگائےبغیر) سولر لگاناجائز ہے،لیکن اس کاثواب مصدِّق(صدقہ کرنےوالے)کو نہیں پہنچےگا،بلکہ حرام مال سے خلاصی کاایک ذریعہ ہوگا۔

 

قال الله تبارك وتعالی: ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ  ٱلۡعِقَابِ﴾ [المائدة: 2] 

وإن اشتروا دورا في مصر من هذه الأمصار، فأرادوا أن يتخذوا دارا منها ‌كنيسة، أو بيعة، أو بيت نار يجتمعون في ذلك لصلواتهم منعوا عن ذلك، وإن استأجروا من رجل من المسلمين دارا، أو بيتا لشيء من ذلك كره للمسلم أن يؤاجرهم، وإن آجرهم دارا، أو منزلا فيها، فأظهروا فيها ما ذكرنا يمنعهم صاحب الدار وغيره من ذلك، ولا ينفسخ عقد الإجارة كذا في الذخيرة.(الفتاوى الهندية، کتاب السیر، الباب الثامن فی الجزیۃ، فصل فی احداث البیع والکنائس وبیت النار، ج:2، ص:252)

(‌المادة 98) :"تبدل ‌سبب ‌الملك ‌قائم ‌مقام ‌تبدل الذات".هذه القاعدة مأخوذة من قاعدتي (اختلاف الأسباب بمنزلة اختلاف الأعيان) و (تبدل سبب الملك قائم مقام تبدل الذات) الواردتين في المجامع.ويفهم منها أنه إذا تبدل سبب تملك شيء ما وإن لم يتبدل هو حقيقة يعد متبدلا.(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المقالة الثانیة في بیان القواعد الکلیة الفقهية، المادۃ:98، ج:1، ص:98)

‌الموهوم ‌لا ‌يعارض ‌المعلوم.(المبسوط للسرخسي، کتاب الاباق، ج:11، ص:16)

ألا ترى أنه يكره بيع ‌المعازف ولا يكره بيع الخشب وعلى هذا الخمر مع العنب والله أعلم بالصواب.

(الهداية، کتاب السیر، باب البغاۃ، ج:2، ص:414)

‌والإجارة ‌والبيع ‌أخوان؛ لأن الإجارة بيع المنافع، والله سبحانه أعلم وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي وأنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح فإنه جائز لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما بدائع من الإجارة، وفيها أيضا ولا تجوز إجارة الإماء للزنا لأنها إجارة على المعصية وإن شئت أفردت لجنس هذه المسائل شرطا وخرجتها عليه فقلت: ومنها أن تكون المنفعة مباحة الاستيفاء فإن كانت محظورة الاستيفاء لم تجز الإجارة. اهـ.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، کتاب الفرائض، مسائل وفوائد شتی من الحظر والإباحة وغیر ذلك، ج:2، ص:322)


فتویٰ نمبر : 3797/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں