بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
ملاوٹ والادودھ بیچنے کاحکم اورمال حرام سے توبہ کرنا
سوال
کیا ایسے دودھ کا کاروبار جائز ہے جس میں پانی ملا ہو اور گاہک کو بتایا نہ جائے؟نیز اس شخص کی آمدنی حرام ہوگی یا حلال؟ان کےگھر کھاناکھاناجائز ہےیانہیں ؟ اور اگر کوئی توبہ کر لے تو ماضی کی کمائی کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ شریعت نے معاملات میں شفافیت اور دیانت کی تعلیم دی ہے اور ہر اس عمل سے منع فرمایا ہے جس سے کسی مسلمان کو نقصان ہو،یاجس میں دھوکہ دہی یاخیانت کا شائبہ ہو۔نیز مخلوط مال میں جب تک حرام غالب نہ ہوتواس سےانتفاع جائز ہے ،ہاں اگر یقینی طورپرمعلوم ہوجائے کہ یہ فلاں چیز حرام ہےتو پھر اس کا استعمال کرناجائز نہیں ۔نیز واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مال حرام سےتوبہ کرلے اور اس کے پاس حرام مال موجودہوتو اس کاحکم یہ ہے کہ اگراس مال حرام کا مستحق معلوم ہوتو اس کو واپس کرناضروری ہے اوراگر مستحق معلوم نہ ہوتو پھراس کی طرف سے صدقہ کیا جائے گا۔
مسئولہ صورتوں کےجوابات یہ ہیں:1۔اگردوکاندار دودھ میں خود پانی ملائے اور گاہک کو نہ بتائے تویہ کاروبار جھوٹ اور خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ، البتہ دودھ میں سےخالص دودھ کی قیمت کے بقدرکمائی حلال ہوگی اور ملاوٹ کے بدلےجو کمائی کی ہےوہ حلال نہیں ہے ،اور اگر دوکاندار پہلےسے پانی ملا دودھ (ملاوٹ شدہ)خرید کر آگے بیچے ،تواگرخالص دودھ کے نام سے بیچےتو بھی دھوکہ دہی کے زمرےمیں آتاہے، لیکن اگر گاہک کوخالص دودھ کےنام پر نہ بیچے،توپھردوکاندارکی طرف سے بذاتِ خود جھوٹ ودھوکہ دہی نہ پائےجانے کی وجہ سےاس کی کمائی حلال ہوگی ۔
2۔ایسے شخص کی آمدنی چونکہ حرام اور حلال سے مخلوط ہے لہذااس کے گھر کھاناکھاناجائز ہے،البتہ احتیاط بہتر ہے ۔
3۔ اگرکوئی شخص توبہ کرےتو ماضی کی کمائی مستحقین کی طرف سے صدقہ کرے،اورثواب ان کو بخش دے۔
عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: "يا صاحب الطعام ما هذا"؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله، قال: "أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ " ثم قال: "من غش فليس منا".(سنن الترمذي، أبواب البیوع عن رسول الله، باب ما جاء في کراہیة الغش فی البیوع، رقم الحدیث:1362، ج:3، ص:157)
وإذا مات الرجل وكسبه خبيث فالأولى لورثته أن يردوا المال إلى أربابه فإن لم يعرفوا أربابه تصدقوا به وإن كان كسبه من حيث لا يحل وابنه يعلم ذلك ومات الأب ولا يعلم الابن ذلك بعينه فهو حلال له في الشرع والورع أن يتصدق به بنية خصماء أبيه كذا في الينابيع.(الفتاوى الهندية، کتاب الکراهية، الباب الخامس عشر في الکسب، ج:5، ص:349)
سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب مالا من أمر السلطان وجمع المال من أخذ الغرامات المحرمة وغير ذلك هل يحل لأحد عرف ذلك أن يأكل من طعامه قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل منه ويسعه أكله حكما إن كان ذلك الطعام لم يقع في يد المطعم غصبا أو رشوة كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، کتاب الکراهية، الباب الخامس عشر في الکسب، ج:5، ص:350)
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.(الفتاوى الهندية، کتاب الکراہیة، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات، ج:5، ص:342)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں