بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بھائی کی جمع پونجی میں استحقاق کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص  باہر ملک چلاگیا اور محنت مزدوری شروع کی،اور گاؤں میں موجود بھائیوں کو تبرع اور احسان کے تحت اخراجات بھیجتارہا،کافی عرصہ اس میں گزرگیا، اس نے لاکھوں روپے بھیج دیے، سب کے بیٹوں کی شادیوں  اور کاروبار وغیرہ کا انتظام بھی  کیا،جبکہ خود اس شخص کی فیملی اس کے ساتھ باہر  ملک میں مقیم ہے، اس نے ازخود سب کچھ سرانجام دیا، اب انہوں نے ذاتی طورپر جو کچھ سرمایہ جمع کیا اس میں بھتیجوں کا حصہ بنے گا یا نہیں؟جبکہ ابتداءاً کوئی شرکت نہیں تھی ،سب کچھ اس نے تبرع اور احسان کے طور  پر کیا ہے ،جس کا سب بھائیوں کو بھی پتہ ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی محنت مزدوری سے کچھ کمائے تو وہ اسی کی ذاتی ملکیت ہوگی ،جس میں  اس کو ہر جائز  تصرف کا پورا حق حاصل ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگربھائی نے  واقعتاً  باہر ملک میں محنت مزدوری سے کمائی کی ہو،مشترکہ سرمایہ سے کاروبار نہ کیاہو،اور صرف تبرع واحسان کے طورپر اپنے بھائیوں اور بھتیجوں پر اپنے مال میں سےخرچ کیا ہو، تو ایسی صورت حال میں ذاتی طور پر جمع کردہ سرمایہ یا جائیدادوغیرہ میں دیگر بہن بھائیوں یا ان کی اولاد کاکوئی حصہ نہ ہوگا۔

 

عن أبى حرة الرقاشى، عن عمه، أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌قال: "‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌مسلم ‌إلا ‌بطيب ‌نفس ‌منه".(مسند أبي يعلى الموصلي، مسند عم أبي حرۃ الرقاشي رضي الله عنه،رقم الحدیث:1570)

‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين ‌أخذ ‌مال ‌أحد بغير سبب شرعي.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الحدود، فصل في التعزیر، ج:5، ص:44)

(سئل) في ابن كبير له عيال وكسب مات أبوه عنه وعن ورثة يدعون أن ما حصله من كسبه مخلف عن أبيهم ويريدون إدخاله في التركة فهل حيث كان له كسب مستقل يختص بما أنشأه من كسب وليس للورثة مقاسمته في ذلك ولا إدخاله في التركة؟(الجواب): نعم.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، کتاب الدعوی، ج:2، ص:17)

(أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه. وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اهـ.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، کتاب الدعوی، ج:2، ص:17)

حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الدعوی، دعوی النسب، فصل في بیان حکم الملک والحق الثابت في المحل، ج:6، ص:263)


فتویٰ نمبر : 3797/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں