بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی کی گائے اور حاجت اصلیہ کا حکم


سوال

اگر کسی کی ملکیت میں ایک گا ئے ہو تو کیا وہ قربانی کے نصاب میں شمار ہوگی؟کیا اس میں سائمہ اور غیر سائمہ (یعنی چرنے والی یا چارہ کھلانے والی) گائے کے درمیان فرق کیا جائے گا؟دودھ دینے والی گائے اور وہ گائے جو ابھی تک دودھ نہیں دیتی، کیا ان دونوں کے حکم میں فرق ہوگا؟بیل اور گا ئےمیں  قربانی کے اعتبار سےکوئی فرق ہے یا نہیں؟ جب ایک عام مقصد کے لیے پالی گئی گائے کو ضرورتِ اصلیہ نہ کہا جائے، تو مہنگے موبائل کو ضرورتِ اصلیہ قرار دینا کس حد تک درست ہے؟

جواب

 قربانی ہر اس مسلمان (مرد یا عورت )پر واجب ہوتی ہے جو عاقل، بالغ اور مقیم ہو اور اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یا سامان تجارت یا ایسا مال موجود ہو  جو اس کی حاجات اصلیہ سے زائد ہو۔

صورت مسؤلہ کے مطا بق  اگر گائے کو ذاتی استعمال کے لیے پالا گیا ہو، تو وہ ضرورتِ اصلیہ میں شمار ہوگی اور قربانی کے نصاب میں شامل نہ ہوگی۔ زکاة کے مسائل میں سائمہ اور غیر سائمہ کا فرق ہے، لیکن قربانی کے نصاب میں اس کا اثر نہیں ہوتا۔دودھ دینے والی گائے اور وہ گائے جو ابھی تک دودھ نہیں دیتی، دونوں اگر ذاتی استعمال کے لیے پالی گئی ہیں، تو ضرورتِ اصلیہ میں شمار ہوں گی۔ اسی طرح، گائے اور بیل میں قربانی کے  اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے دونوں قربانی کے جانوروں میں شامل ہیں، بشرطیکہ عمر اور دیگر شرائط پوری ہوں۔  نیزمہنگے موبائل فون کو ضرورتِ اصلیہ میں شمار کرنا اس کے استعمال پر منحصر ہے۔ اگر وہ پیشہ ورانہ یا ضروری ذاتی استعمال کے لیے ہے، تو وہ ضرورتِ اصلیہ میں شامل ہوگا۔، تاہم، اگروہ استعمال میں نہ ہو،توایسی صورت میں وہ ضرورتِ اصلیہ میں شامل نہیں ہوگا۔

 

‌وأما) (‌شرائط ‌الوجوب) : ‌منها ‌اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها.(الفتاوی الهندية،کتاب الأضحية،الباب الاول،ج:5،ص: 337 )

وشرائطها : الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به  وجوب صدقة الفطروقال ابن عابدين قوله اليسار بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية .(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الأضحية،ج:9،ص:453)


فتویٰ نمبر : 10524/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں