بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مملو کہ چیزپرزکوٰۃ


سوال

میری بیوی کے پاس دو تولہ سونا اور ایک چاندی کی انگوٹھی تھی۔ گزشتہ سال ہم نے اس پر زکوٰۃ ادا کر دی تھی۔ بعد میں بیوی نے وہ چاندی کی انگوٹھی مجھے ہبہ (تحفہ) کر دی، اور اب وہ میری ملکیت ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو اجازت دے دی ہے کہ وہ یہ انگوٹھی پہنے اور استعمال کرے، لیکن انگوٹھی کی ملکیت میری ہی رہے گی۔سوال یہ ہے کہ:کیا صرف استعمال کی اجازت ہونے سے زکوٰۃ کا حکم میری بیوی پر دوبارہ لاگو ہوگایعنی اس چاندی کی انگوٹھی کی زکوٰۃ اب کس پر واجب ہوگی  مالک (شوہر) پر یا استعمال کرنے والی (بیوی) پر؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنامملوکہ زیورکسی کو استعمال کے لیے دے دے،تو مالک پر زکوۃ لازم ہو گی استعمال کر نے والے پر نہیں ۔

صورت مسؤلہ میں اگر سائل کی بیوی نے چاندی کی انگوٹھی اس کو ہبہ کر دی ہو، اور اب وہ سائل کی ملکیت ہو، تو اس کی زکوٰۃ  بھی سائل پر لازم ہو گی،بشرطیکہ وہ صاحب نصاب ہو۔

 

ومنها الملك التام ‌وهو ‌ما ‌اجتمع ‌فيه ‌الملك ‌واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب الأول في تفسيرالزكوة،ج:1،ص:172)


فتویٰ نمبر : 10523/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں