بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ہبہ میں ملکیت کا ثابت ہونا


سوال

ایک بھائی حالت حیات میں ہوش وحواس کے ساتھ اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اپنے بھائی کوبطورہبہ دےدے،قبضہ بھی دے دے،گواہوں کی موجودگی میں اسٹامپ پیپر بھی لکھ دے،لیکن اس کے نام انتقال نہ کیاہو،تواس صورت میں یہ شخص اس جائیداد کا مالک شمارہوگا یانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ ہبہ کرنے والے کی طرف سے جب موہوب لہ( جس کوہبہ کیا گیاہو)کو ہبہ شدہ چیزکاقبضہ دے دیا جا ئےتو اس سے ہبہ تام ہوکرموہوب لہ کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بھائی نے ہوش وحواس کےساتھ اپنی جائیدادکا کچھ حصہ گواہوں کی موجودگی میں اپنے بھائی کو بطورہبہ دے کرقبضہ بھی دے  دیاہوتواس سےاس بھائی کی ملکیت ثابت ہوگی۔ جہاں تک انتقال کی بات ہے تو وہ انتظامی اور قانونی ضرورت ہے شرعاً وہ ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے شرط نہیں۔

 

وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.(الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الهبة،ج:3،ص:222)

أن القبض بمنزلة القبول في الهبة من حيث إنه يتوقف عليه ثبوت حكمه وهو الملك.(الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الهبة،ج:3،ص:222)

أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غيرعوض.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:6،ص:127)

(‌وتتم) ‌الهبة(بالقبض)الكامل.(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب الهبة،ج:5،ص:690)


فتویٰ نمبر : 6278/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں