بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی میں سستا حصہ ڈالنا


سوال

ہمارے علاقے میں بعض ادارے اجتماعی قربانیاں کرتے ہیں اس میں ایک حصے کی خاص قیمت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی سستا حصہ لیتا ہے جوایک حصہ کا  نصف ہوتاہے تواس کے لیے بھی قربانی کردیتے ہیں مثال کے طور پراگرایک مکمل حصہ تیس ہزار کا ہےتواگرکوئی پندرہ ہزاربھی دے دے تواس کو بھی قربانی میں شریک کرتے ہیں پھراسی حساب سے گوشت بھی ان شرکاءمیں تقسیم کردیتے ہیں جس کا حصہ پوراہوتواس کو پورے حصہ کاگوشت ملتا ہےاور جس کا آدھا ہوتواسےادھے حصے کا گوشت ملتا ہےشرعااس سستے اورآدھے حصے کی قربانی سے کیا واجب قربانی ادا ہوتی ہے؟

 

جواب

جانناچا ہیے کہ بڑے جانوریعنی گائے،بھینس اوراونٹ میں سات بندوں تک شریک ہوسکتے ہیں،اگرقربانی جس میں سات سے زیادہ بندے ایک بڑے جانور میں شریک ہوں،تو شرعا اس کی گنجائش نہیں،اورسب کی قربانی جائز نہ ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں اجتماعی قربانی میں آدھا سستا اگر1/7 حصے سے کم ہوتو شرعاًاس سے قربانی ادا نہ ہوگی اورنتیجتاً اس طرح کے جانورمیں شریک سب شرکاء کی قربانی درست نہ ہوگی۔

 

ويذبح عن كل واحد منهم شاة أو يذبح بقرة أو بدنة عن سبعة" والقياس أن لا تجوز إلا عن واحد، لأن الإراقة واحدة وهي القربة، إلا أنا تركناه بالأثروهوما روي عن جابر رضي الله عنه أنه قال: "نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البقرة عن سبعة والبدنة عن سبعة".ولا نص في الشاة، فبقي على أصل القياس. (الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الأضحية،ج:4،ص:356)

(أو سبع بدنة) هي الإبل والبقر؛ سميت به لضخامتها، ولو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الأضحیة،ج:6،ص:316)


فتویٰ نمبر : 10495/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں