بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی میں جانورذبح کرنے کی بجائےقیمت دینا


سوال

صاحب ہدایا کی اس عبارت سے ویفوت بمضي الوقت میں فوت لا الی بدل سے بظاہرمعلوم ہوتا ہےکہ قربانی واجب عینی نہیں لہذا اگرکوئی قربانی کی بجائے ہر سال اس کی قیمت فقراءمیں تقسیم کرے جبکہ آج کل کے تناظرمیں فقراءکافائدہ بھی اسی میں ہےتو کیا شرعا اس کی گنجائش ہوگی؟

جواب

جانناچاہے کہ قربانی مخصوص وقت میں قربت کی نیت سے مخصوص جانورکو ذبح کرنےکا نام ہےلہذا اگرکوئی ذبح کرنے کی بجائے جانور یا اس کی قیمت  صدقہ کرے تواس کا ذمہ فارغ نہ ہوگا ،کیونکہ قربانی میں اصلاًجانورکا خون بہانا ہے۔

صورت مسؤلہ کی روسےاگرکوئی جانورکوذبح کرنے کی بجائےاس کی قیمت صدقہ کرنا چاہتا ہےتویہ جائز نہیں کیونکہ اصل ماموربہ مخصوص جانورکوذبح کرنا ہے اور ذبح کرنا ہی اس میں واجب عینی ہےالبتہ اگر کسی نے قربانی کے ایام گزرجانےتک ذبح نہ کیا تو پھر یا تواسی جانورکو یا پھراس کی قیمت کو صدقہ کرے گا۔

جہاں تک صاحب ہدایا کی عبارت کا تعلق ہےتواس کا  مقصد یہ نہیں کہ قربانی واجب عینی نہیں،علامہ شامی لکھتے ہیں کہ صاحب ہدایہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ "ویفوت بمضي الوقت (فوات أدائها)"کہ مخصوص وقت گزرنے سےاس کی أدا فوت ہوتی ہے یعنی مخصوص وقت کے بعد پھراس کی أدا کی بجائے قضاء کی جائے گی،جو یہی جانور یا اس کی قیمت ہے۔ خود صاحب ہدایا نے بھی آگے لکھا ہے کہ اگرکسی نے ایام اضحیہ میں قربانی نہیں کی توبعد میں اس جانورکو یا اس کی قیمت کو صدقہ کرے گا۔

جہاں تک فقراء کے نفع کی بات ہے تو شریعت  نے فقراءکے ساتھ قربانی کےعلاوہ بھی بہت سے موقعوں پررواداری کا درس دیا ہےزکوۃ اورصدقۃ الفطر کے علاوہ نفلی صدقات کی حوصلہ افزائی کرنا فقراء کےنفع ہی کے لیے ہے۔اورقربانی کی گوشت میں بھی بہتریہ ہے کہ ان کو تین حصے کیا جائےاورایک حصہ فقراء کے درمیان تقسیم کیا جائے۔

 

وشرعا(ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الأضحیة، ج:6، ص:312)

(قوله ولو تركت التضحية إلخ) شروع في بيان قضاء الأضحية إذا فاتت عن وقتها فإنها مضمونة بالقضاء في الجملة كما في البدائع.(قوله تصدق بها حية) لوقوع اليأس عن التقرب بالإراقة، وإن تصدق بقيمتها أجزأه أيضا لأن الواجب هنا التصدق بعينها وهذا مثله فيما هو المقصود.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الأضحیة، ج:6، ص:313)

(فتجب) التضحية: أي إراقة الدم،(قوله أي إراقة الدم) قال في الجوهرة: والدليل على أنها الإراقة لو تصدق بين الحيوان لم يجز،والتصدق بلحمها بعد الذبح مستحب وليس بواجب.(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الأضحیة،ج:6،ص:320)

ومعنى قول الهداية وتفوت بمضي الوقت فوات أدائها بدليل أن عليه التصدق بقيمتها أو بعينها كما يأتي في بيانه.(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الأضحیة،ج:6،ص:315)

لو لم يضح حتى مضت أيام النحرإن كان أوجب على نفسه أوكان فقيراوقد اشترى الأضحية تصدق بها حية وإن كان غنيا تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتر" لأنها واجبة على الغني.(الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الأضحية،ج:4،ص:357)

قال:ويأكل من لحم الأضحية ويطعم الأغنياء والفقراء ويدخر. (الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الأضحية،ج:4،ص:360)


فتویٰ نمبر : 10495/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں