بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مشت زنی ،بدکاری اور اجنبی عورت کے ساتھ پیار و محبت کی باتیں کرنےکے ساتھ طلاق کو معلق کرنا


سوال

ایک شخص نے ان الفا ظ کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے"اگر میں نے کسی اجنبی عورت کے ساتھ پیار و محبت کی باتیں کیں، یا کسی بدکاری (زنا) میں مبتلا ہوا، یا اگر میں نے خود اپنے ہاتھ سے شہوت نکالی (مشت زنی کی)، تو میری بیوی پر طلاق ہے۔"

یہ الفاظ اس نے تین مرتبہ دہرائے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے تین طلاقوں کو ان افعال کے ارتکاب پر معلق کیا۔

اب حالیہ ایام میں، جب وہ شخص ملائیشیا میں تنہا مقیم ہے، اس پر شہوت کا غلبہ ہوا۔ اس نے اپنے بستر پر الٹا لیٹ کر غالباً کسی شہوت انگیز ویڈیو یا تصور کے زیرِ اثر اپنی شرمگاہ کو بستر سے رگڑنے کی حالت میں رکھا، جس کے نتیجے میں انزال (منی خارج) ہو گیا۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ اس نے ہاتھ کا استعمال نہیں کیا۔علاوہ ازیں، اس نے گوگل پر مختلف الفاظ سے تلاش (search) کی، جیسے: "Malaysia girls service" وغیرہ۔ نتیجتاً کچھ واٹس ایپ نمبرز ظاہر ہوئے جن میں سے ایک پر اس نے یہ سوال بھیجا کہ: "آپ کی لوکیشن کیا ہے؟" نہ اس نے کوئی پیار و محبت کی بات کی، نہ کسی قسم کا جنسی تعلق قائم کیا۔ صرف لوکیشن سے متعلق سوال ہوا۔ جواباً ان لڑکیوں کی طرف سے تصاویر اور لوکیشن بھی موصول ہوئیں، مگر وہ شخص نہ تو وہاں گیا، نہ کوئی عملی تعلق قائم کیا۔ بلکہ بعد میں اس نے وہ تصاویر اور چیٹ ڈیلیٹ کر دی۔

1۔توکیا بستر پر لیٹ کر، بغیر ہاتھ کے استعمال کے، شہوت کے ساتھ منی کے اخراج کا یہ عمل "ہاتھ سے شہوت نکالنے" کی شرط میں شامل ہو گا؟

2۔کیا گوگل سرچ کرنا، اور کسی نامعلوم خاتون سے صرف لوکیشن کے بارے میں پوچھنا (بغیر فحش یا پیار و محبت کی بات کیے) اس شرط میں شامل ہو گا کہ "غلط عورتوں کے ساتھ پیار و محبت کی باتیں کیں"؟

3۔اگر نیت شرط لگاتے وقت صرف عملی زنا اور واضح شہوت آمیز باتوں کی تھی، تو کیا مذکورہ افعال (سرچ، لوکیشن معلوم کرنا، وغیرہ) اس میں داخل ہوں گے؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کی جائے تو شرط پائے جانےسے طلاق واقع ہوجائےگی۔اگر طلاق کو ایک سے زائد کاموں کے ساتھ معلق کیا گیا ہو تو جب ان میں ایک بھی پایا جائے توطلاق واقع ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے تین کاموں کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے ،''ہاتھ سے شہوت نکالنا''،''اجنبی خاتون کے ساتھ پیار اور محبت  کی باتیں کرنا"  اور"بدکاری میں مبتلاہونا "۔مذکورہ حالات میں  ان میں سےکوئی بھی نہیں پایا گیا کیونکہ نہ اس نے مشت زنی کی ہےنہ اجنبی خاتون کے ساتھ پیار اور محبت  کی باتیں کی   ہیں اورنہ بدکاری کی ہے لہذا کوئی   طلاق واقع نہ ہوئی۔

 

إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط.(الفتاوی الهندية،کتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)


فتویٰ نمبر : 7175/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں