بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سرکاری ملازمت پیسوں كے عوض خریدنا


سوال

ایک شخص نے سرکاری ملازمت 12 لاکھ روپے میں خریدی اور اس شخص کو پتہ نہیں تھا کہ یہ اس کا حق ہے یا نہیں کیونکہ ملک میں حقدار اور غیر حقدار معلوم نہیں ۔ اور بعد میں اپنی ڈیوٹی صحیح  طریقے سے سرانجام دیتا ہے، اب پوچھنا  یہ ہےکہ ایسی   نوکری جائز ہے یا نہیں ۔ شریعت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ رشوت لینا اور دینا دونوں کبیرہ گناہ  ہیں ۔ البتہ اگر کوئی ایسی  صورت ہو جہاں ہر ممکن کوشش کر نے کے باوجود بھی حق ضائع ہو رہا ہو اور بغیر  رشوت دئیے حق کا حاصل ہونا ممکن نہ ہو تو پھر اپنے جائز حق   کے حصول کے لئے  مجبوری میں رشوت دینے کی گنجائش ہو گی ، تاہم رشوت دینے پر اللہ تعالی سے توبہ و استغفار  کرنا لازم ہو گا۔

صورت مسئولہ میں اگرہرقسم کوشش اورتدبیرکےباوجودکوئی جائزنوکری بغیررشوت دئیےنہ مل رہی ہوتواس صورت میں رشوت دینے کی گنجائش اس شرط کے ساتھ ہوگی کہ اس شخص کےاندراس نوکری کوانجام دینے کی اہلیت ہواوراس کے رشوت دینے کی وجہ سے کسی دوسرےمسلمان کاحق ضائع نہ ہورہا ہو۔ اس صورت میں گناہ رشوت لینے والے پرہوگااوراس نوکری سےحاصل ہونےوالی آمدنی حلال ہوگی۔

بصورت دیگررشوت دیناجائزنہیں اوراگررشوت دے کرنوکری حاصل کرلی تورشوت دینے کاگناہ بھی ہوگااورپھرآمدنی کاحلال یاحرام ہونےکامدارملازم کی اہلیت اورمتعلقہ امورکوسرانجام دینے پرہوگا۔

 

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه )بالواوقال لعن رسول الله الراشي والمرتشي أي معطي الرشوة…أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق أوليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلابأس به، لكن هذاينبغي أن يكون في غيرالقضاة والولاة، لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم،فلايجوزلهم الأخذعليه. (مرقاةالمفاتيح،کتاب الإمارة والقضاء، الفصل الثاني، ج:7، ص:332)

الحقوق المجردةلايجوزالإعتياض عنها۔ )الأشباه والنظائر، الفن الثاني:فن الفوائد،‌‌ العقدالفاسد إذا تعلق به حق العبد، ص:187)

(قوله إذاخاف على دينه) عبارة المجتبى لمن يخاف،وفيه أيضا دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع. (ردالمحتارعلی الدرالختار، کتاب البیوع، فصل في البيع، ج:6، ص:423)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں