بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

رشوت سے سرکاری ملازمت حاصل کرنا اور اس کی تنخواہ


سوال

ایک شخص نے رشوت سے سرکاری ملازمت حاصل کی اب اس کو پتہ نہیں تھا کہ یہ اس  کا حق ہے یا نہیں کیونکہ حق دار اور غیر حق دار معلوم نہیں ،اب یہ نوکری حرام ہےیا جائز ؟اگر چہ بعد میں  ملازمت اور ڈیوٹی صحیح اداکرتاہے  اور اس کی تنخواہ کا کیا حکم ہوگا جائز ہوگی یانہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ رشوت  لینےاور دینے  والے  پر رسولِ اکرم  ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے، چنانچہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں،اس  لیے حتی  الامکان  رشوت  دینے  سے  بھی بچنا   ضروری  ہے، البتہ اگر کوئی  جائز  کام تمام لازمی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونےکے باوجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے  نہ ہورہا ہو تو ایسی صورت میں حق دار شخص کو چاہیے کہ اولاً وہ اپنی پوری کوشش کرے کہ رشوت دیئےبغیر کسی طرح اس کا کام ہوجائے،اور جب تک کام نہ ہو اس وقت تک صبر کرے لیکن اگر  ضرورت ہو اورکوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہو تو جائز حق کی وصولی کے  لیے مجبوراً  رشوت دینے کی گنجائش ہے اس صورت میں  دینے والا گناہ گار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینے والے شخص کے حق میں رشوت کی وہ رقم بہرحال ناجائز وحرام ر ہے گی ۔

صورتِ مسئولہ میں  رشوت سے ملازمت حاصل کرنے کے بعد اگر اس شخص میں مطلوبہ ملازمت کی استعداد موجود ہو اور وہ اپنی ذمہ داری اچھی طرح اداکرے تو اس کے لیےیہ ملازمت جائز ہے اور تنخواہ لینا بھی جائز ہے،کیونکہ اب وہ تنخواہ موجودہ نوکری اور محنت کے عوض لے رہا ہے۔البتہ رشوت دینے پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور توبہ کرے۔

 

عن عبد الله بن عمرو قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشى والمرتشى. (سنن أبي داؤد، كتاب القضاء، باب كراهية الرشوة، ج:2،ص:148)

 لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام .كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه.قال ابن عابدین:دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظّلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له لیس برشوۃ.(ردّ المحتارعلی الدّرالمختار،کتاب الحظروالإباحة،باب الاستبراءوغیرہ،ج:9،ص:607)

إذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أوماله، فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع.(شرح المجلة لخالد الأتاسي، الكتاب السادس عشر في القضاء الفصل الثاني، مادة:1796، ج:6، ص:40)

لو اضطر إلى دفع الرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض.( رد المحتار علی الدر المختار، ‌‌كتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:72)


فتویٰ نمبر : 6289/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں