بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی والے جانور کے دودھ کا استعمال


سوال

ہم نے قربانی کے لیے گائے خریدی ہے جو کہ مشترکہ ہے، اور قربانی کے لیے ابھی کچھ دن باقی ہیں۔ گائے میں دودھ موجود ہے، تو کیا اس دودھ کا استعمال ہم کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ اگر جانور کو قربانی کی نیت سے خریدا گیا ہو، تو اس سے کسی قسم کا نفع لینا درست نہیں، مثلاً دودھ وغیرہ کا استعمال میں لانا یا بیچنا۔ اور اگر تھنوں میں دودھ زیادہ ہو، جس کی وجہ سے جانور کو تکلیف ہوتی ہو، تو ایسی صورت میں جانور سے دودھ لے کر اسے صدقہ کر دیا جائے البتہ اگر کوئی  قربانی کے جانور کو  چارہ خرید کر کھلا رہا ہو تو اس  کا دودھ  چارہ کی قیمت کے بقدر استعمال کرنے کی   گنجائش ہے،  تاہم  بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں بھی دودھ کو خود استعمال نہ کرے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں، چونکہ سائل نے جانور قربانی کی نیت سے خریدا ہے، اس وجہ سے اس کے لیے دودھ کا استعمال جائز نہیں، بلکہ اسے صدقہ کیا جائے یا استعمال کیا ہو تو اس کی قیمت صدقہ کرے۔

 

‌وإن ‌كان ‌في ‌ضرعها ‌لبن ويخاف ينضح ضرعها بالماء البارد، فإن تقلص وإلا حلب وتصدق، ويكره ركوبها واستعمالها كما في الهدي، فإن فعل فنقصها فعليه التصدق بما نقص، وإن آجرها تصدق بأجرها۔ولو ‌اشترى ‌بقرة ‌حلوبة ‌وأوجبها أضحية فاكتسب مالا من لبنها يتصدق بمثل ما اكتسب ويتصدق بروثها، فإن كان يعلفها فما اكتسب من لبنها أو انتفع من روثها فهو له۔(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية،الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها،ج:5،ص:103)

ويتصدق بلحمها؛ قال البقالي في «كتابه» : وما أصاب من لبنها تصدق بمثله أو قيمته، وكذا الأرواث إلا أن يعلفها بقدرها۔(المحيط البرهاني، كتاب الأضحية، فصل في الانتفاع  ،ج:6،ص:95)

(‌ويكره ‌الانتفاع ‌بلبنها قبله)كما في الصوف۔(رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب الأضحية،ج:6،ص:329)

‌ولو ‌كان ‌في ‌ملك ‌إنسان شاة فنوى أن يضحي بها أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر ۔ (بدائع الصنائع ،کتاب الاضحیۃ 6/276)


فتویٰ نمبر : 10554/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں