بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زانی اورمزنیہ کی اولاد کا آپس میں نکاح کرنا


سوال

 مرد اورعورت نے آپس میں زنا کیا پھر دونوں کی شادی الگ الگ خاندانوں میں ہوئی ،مرد کا کسی اورعورت سے جبکہ عورت کا  کسی اور مرد سے دونوں کی زنا سے کوئی اولاد نہیں، لیکن نکاح سے پیدا ہونے والی اولاد کا آپس میں نکاح کرنا چاہتےہیں ، تو کیایہ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مرد اور عورت کے زنا کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ،جس کی بنا پر جانبین کے اصول (باپ،دادا،ماں،دادی) وفروع (بیٹا،پوتا،بیٹی،پوتی) ایک دوسرے پرحرام ہو جاتے ہیں،لیکن جانبین کی اولاد کا آپس میں نکاح پر كوئی اثر نہیں پڑتا۔

صورت مسؤلہ میں زانی اورمزنیہ کی اولاد کا آپس میں نکاح جائز ہے۔تاہم دونوں کے لئے اللہ تعالی سے توبہ اوراستغفار کرنا ضروری ہے۔

 

‌أراد ‌بحرمة ‌المصاهرة الحرمات الأربع ،حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها.(ردالمحتار علی الدر المختار،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،:ج4،ص،107)


فتویٰ نمبر : 7173/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں