بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کسی کو ظلم سے بچانے پر اس سےہدیہ قبول کرنا یا اجرت لینا


سوال

اگر کوئی قانونی اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہو لیکن راستے میں سرکاری یا غیر سرکاری لوگ اس سے بھتہ وصول کرتے ہوں چنانچہ کوئی دوسرا شخص اپنے اثر ورسوخ کی بنا پر سامان کو ان لوگوں (بھتہ خوروں)سے محفوظ طریقے سے منتقل کروادے جس پر سامان کے مالک اس کو  کچھ رقم دیدیں تو اس کے لیے یہ لینا جائز یا نہیں؟ نیز اگر یہ شخص ان لوگوں سے باقاعدہ ایک متعین حق الخدمت کی بات کرلے تو پھر اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اسلامی شریعت نے خدمتِ خلق، مظلوم کی اعانت اور لوگوں کو ضرر و ظلم سے بچانے جیسے اعمال کو باعثِ اجر و ثواب قرار دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حلال و مباح مقصد میں لوگوں کی مدد کرے، مثلاً انہیں ظلم یا ناجائز بھتہ خوری سے محفوظ رکھے، اور اس کے بدلے میں وہ اپنی رضا و خوشی سے اسےکچھ رقم بطور ہدیہ یا معاونت پیش کریں، تو اس کا لینا شرعاً حلال ہے۔نیز اگر کوئی اس شخص کو باقاعدہ یہ کام حوالہ کرے،یا یہ شخص خود متعین رقم کا مطالبہ کرے اور لوگ اس پر راضی ہوں،توپھر یہ شخص اجیر کے حکم میں ہو گا، اور اجیر کو اس کی خدمت کے بدلے اجرت لینا جائز ہے، لیکن اس صورت میں اجرت کی مقدارپہلے سے متعین کرنا ضروری ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگرکوئی شخص بغیر معاوضہ کے خدمت انجام دے رہا ہو اور لوگ اپنی رضا سے کچھ پیسے دیں، تو یہ پیسے لینا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے اسے باقاعدہ یہ کام حوالہ کیا ہو، تو پھر بھی اس کے لیے متعین رقم لینا جائز ہے اور دونوں صورتوں میں یہ بھتہ کے حکم میں نہیں آئے گا۔

 

عن أبي حرّة الرّقاشي، عن عمّه أنّ رسول الله ﷺقال: " ‌لا ‌يحل ‌مال رجل مسلم لأخيه، إلّا ما أعطاه بطيب نفسه "(السنن الكبرى للبيهقي،كتاب قتال أهل البغي،باب أهل البغي إذا فاءوا......،ج:8،ص:316،رقم الحديث:16756)

عن أبي هريرة عن النّبيّ ﷺ:"لا يساوم الرّجل على سوم أخيه،ولا يخطب على خطبة أخيه،ولاتناجشوا،ولا تبايعوا بإلقاء الحجر،ومن استأجر أجيرا ‌فليعلمه ‌أجره"( السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الإجارة،باب لاتجوز الإجارة حتى تكون معلومة و تكون الأجرة معلومة،ج:6،ص:198،رقم الحدیث:11651)

وأما الذي يرجع إلى ما يقابل المعقود عليه وهو الأجرة والأجرة في الإجارات معتبرة بالثمن في البياعات؛لأن كل واحد من العقدين معاوضة المال بالمال،فما يصلح ثمنا في البياعات يصلح أجرة في الإجارات،وما لا فلا،وهو ‌أن ‌تكون ‌الأجرة مالا متقوما معلوما.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:193)

 لوكان لأحد أمر محق فيه عند وال فأدى أحدالأشخاص غير الموظفين مالا ليقوم له بإتمام ذلك الأمر فيحل دفع ذلك وأخذه؛لأنه ‌وإن ‌كانت ‌معاونة ‌الإنسان للآخر بدون مال واجبة،فأخذ المال مقابل المعاونة لم يكن إلا بمثابة أجرة(الولوالجية بتغيير يسير) .(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،الکتاب السادس عشر،الباب الأول في حق القضاۃ،الفصل الثانی في بیان آداب القاضي،المادۃ:1796،ج:4،ص:590)


فتویٰ نمبر : 6281/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں