بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

وکیل کے ذریعے قربانی کروانا


سوال

ایک خاندان کے تمام افراد بیرون ملک میں مقیم ہیں ،پاکستان میں اپنی طرف سے آن لائم قربانی کرواتے ہیں۔ کیا شرعا وکالت ( Proxy)کے ذریعے قربانی ادا ہوجاتی ہے؟کیا نیت اور ملکیت میں کوئی شرط ہے؟

جواب

قربانی جس طرح ایک آدمی خود کرسکتا ہے اسی طرح کسی دوسرے کے ذریعے یعنی کسی کو وکیل بنا کر بھی کرواسکتا ہے؛کیونکہ قربانی میں نیابت درست ہے، کہ کوئی کسی کا وکیل بن کر اس کی طرف سے قربانی کرے۔ البتہ اس میں شرط یہ ہے کہ وہ جانور مؤکل نے خودبنیت قربانی خریدا ہو یا وکیل نے مؤکل کی اجازت سےاس کے لیے  خریدا ہوتاکہ مؤکل کی ملکیت قرار پائے ۔

لہذا بیرون ملک میں مقیم شخص کا پاکستان یا کسی اور ملک میں کسی کو قربانی کے لیے رقم بھیج کر اپنی طرف سے قربانی کے لیے وکیل بنانا شرعا درست ہے ۔ اور اس طرح قربانی سے ذمہ فارغ ہوجائےگا۔

 

(ومنها)أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز ‌للإنسان ‌أن ‌يضحي ‌بنفسه وبغيره بإذنه؛لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر؛ولأن كل أحد لا يقدر على مباشرة الذبح بنفسه خصوصا النساء،فلو لم تجز الاستنابة لأدى إلى الحرج.(بدائع الصنائع کتاب التضحیة،فصل فی کیفیة الوجوب، ج:6،ص:291)


فتویٰ نمبر : 10497/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں