بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

غیر موجودہ چیز کا وعدہ بیع کرنا


سوال

میں نے گھر میں سولر لگوائے ہیں، اور میں ان کے لیے بازار سے بیٹریاں خریدنے گیا۔ دکاندار نے کہا کہ ابھی میرے پاس بیٹریاں موجود نہیں ہیں، لیکن میں آپ کے لئے لاہورسے منگوا دونگا، اور میں آپ کو وہ بیٹریاں دو لاکھ روپے میں دونگا۔ تو کیا میرے لیے اس طرح بیٹریاں خریدنا جائز ہے، جب کہ بیٹریاں اس وقت دکاندار کے پاس موجود نہیں ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو چیز کسی کی ملکیت میں نہ ہو اس کو  فروخت کرنا  جائز نہیں ، البتہ اگر وعدہ بیع کرے تو یہ جائز ہے یعنی یہ کہے کہ میرے پاس فلاں چیز اب موجود نہیں ہے لیکن بازار سے خرید  کرآپ کو بیچ  دوں گاتو یہ وعدہ بیع کہلاتا ہےاور  وعدہ بیع  جائز ہے، شرعا اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اس طرح وعدہ کرنے کے بعداس کی پاسداری کرنا شرعی واخلاقی فریضہ ہے، البتہ کسی واقعی عذر کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرنے کی بھی گنجائش ہوتی ہے ۔

صورت مسئولہ میں دوکاندار کا یہ کہنا کہ ' ابھی میرے پاس بیٹریاں موجود نہیں ہیں، لیکن میں آپ کے لئے لاہور سے منگوا دونگا'وعدہ بیع ہے جو کہ شرعاجائز ہےپھر جب وہ بیٹریاں خرید کر اپنے قبضہ میں لے آئے تو اس کے بعد اس سےخرید لیں گے۔

 

قال اللہ تعالی:وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔(الإسراء: 34)

وتأويل النهي عن بيع ما ليس عند الإنسان بيع ما ليس في ملكه بدليل قصة الحديث فإن «حكيم بن حزام رضي الله عنه قال يا رسول الله إن الرجل يطلب مني سلعة ليست عندي فأبيعها منه ثم أدخل السوق فأستحدثها فأستجيدها فأشتريها فأسلمها إليه فقال صلى الله عليه وسلم ‌لا ‌تبع ‌ما ‌ليس ‌عندك۔(المبسوط للسرخسي،كتاب البيوع،باب الخيار بغير شرط،ج:13،ص:70)


فتویٰ نمبر : 3793/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں