بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا
سوال
ایک شخص نے اپنی زندگی میں اپنے5 بیٹوں ا ور 3 بیٹیوں کے درمیان اپنی جائیداد اور 16 لاکھ نقد رقم تقسیم کردی تھی،اس کے مرنے کے بعد بعض ورثا کہتے ہیں کہ ہم اس تقسیم پر راضی نہیں ہیں،لہذا از سر نو تقسیم کی جائے،تو کیا ایسی صورت میں ازسرنو تقسیم کی جائے گی یا پہلی والی تقسیم کافی ہے؟
جواب
واضح ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنا مال یا جائیداد اپنی رضا مندی سے اپنی اولاد میں تقسیم کر دے اورہر ایک کو اس کے حصے پر قبضہ بھی دے دے، تو شرعی اعتبار سے یہ ہبہ کہلاتا ہے نہ کہ تقسیم میراث ،چونکہ یہ مال ہبہ کرنے والے کی زندگی میں ہی باقاعدہ طورپرمنتقل ہو چکا ہوتا ہے، اس لیے ہبہ کرنے والے کی وفات کے بعد ورثا کا از سرنو تقسیم کا مطالبہ شرعاً جائزنہیں۔
صورت مسؤلہ کے مطابق جس شخص نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال وجائیداد کو تقسیم کیا تھا،اگر اس نے قبضہ بھی دے دیا تھا تواس کی وفات کے بعد بعض ورثا کا از سر نو تقسیم کا مطالبہ کرنا درست نہیں ،کیونکہ مورث کی زندگی میں اولاد کا اپنے اپنے حصوں پر قبضہ کر نے سے ان کی ملکیت تام ہوگئی ہے ۔
هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب و قبول وتتم بالقبض الكامل فإن قبض في المجلس بلا اذن صح وبعده لابدمن الإذن.(ملتقى الأبحر على صدر مجمع الأنهر،كتاب الهبة،ج:٣،ص:٤٨٩)
تنعقد الهبة بالإيجاب والقبول،وتتم بالقبض الكامل؛لأنها من التبرعات والتبرع لايتم إلا بالقبض.(شرح المجلة لسلِم رستم باز،المادة:٨٣٧،ص:٤٦٢)
لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك.(دررالحکام،الباب الرابع فی بیان المسائل التی تتعلق بمدۃ الاجارۃ،ج:1،ص:559)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں