بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خلا پر جانے والے کے لیے نماز کا حکم


سوال

اگر کوئی مستقبل میں خلا یا مریخ  پر جائے  تو  کیا اس سے نماز ساقط ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ ہرعاقل بالغ مردوعورت پر دن رات میں اللہ تعالی کی جانب سے پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں ،اور یہ نمازیں بندہ سے کچھ مخصوص احوال (جیسے جنون،پانچ نمازوں سے زائد وقت  تک کا مسلسل بے ہوشی)  کے علاوہ ساقط نہیں ہوتی، بندہ جہاں بھی ہو ان نمازوں کو ادا کرنے کا پابند رہے گا ، چاہے وہ زمین پرہو، پانی کے اندر ہو اور یا ہوا میں معلق ہو۔ 

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی خلا یا مریخ پر جائے  تو اس سے نماز ساقط نہیں ہوگی ،بلکہ جس طرح زمین میں نماز فرض ہے اسی طرح اگر کوئی شخص خلا میں ہو یا چاند، زہرہ ، مریخ وغیرہ کسی سیارہ پر ہو بہر حال اس پر نماز  فرض رہے گی ، چنانچہ تحری کرکے سمت قبلہ معلوم کرے گا اور اسی جانب نماز پڑھے گا۔

 

قال الله تعالى: ﴿إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِینَ كِتَٰبًا مَّوۡقُوتًا﴾. (سورة النساء:103)

الصلاة فريضة محكمة لا يسع تركها ويكفر جاحدها. كذا في الخلاصة.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، ج:1، ص:107)


فتویٰ نمبر : 10489/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں