بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کے لیے سونے اور چاندی کے علاوہ زیورات استعمال کرنا


سوال

عورتوں کے لیے سونے اور چاندی کے علاوہ لوہے ،تانبے اور پیتل کی انگوٹھیاں اورکنگھن پہننا کیسا ہے؟ نیز اس کے ساتھ اگر نماز پڑھی جائے،تو ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں عورتوں کے لیے جائز زیب و زینت کا اختیار دیا گیا ، لیکن زیب و زینت میں شریعت کے حدود پامال کرنے ، اور ناجائز امور کے ارتکاب  سے اجتناب کرنا از حد ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں عورتوں کے لیے بطور زیب و زینت  ہر قسم دھات سے تیار شدہ زیورات کا استعمال کرنا جائز ہے، البتہ انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی پہن سکتی ہے ، اس کے علاوہ  باقی دھاتوں سے بنائی گئی انگوٹھی سے حدیث مبارک  میں ممانعت آئی ہے ، لہذا  اس کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے ،تاہم اگر کسی نے  تانبے یا پیتل وغیرہ کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی ،لیکن انگوٹھی کے استعمال کا وبال اور گناہ ضرور ہوگا۔

 

ولا بأس للنساء بتعليق الخرز في شعورهن من صفر أو نحاس أو شبة أو حديد ونحوها للزينة والسوار منها ولا بأس بشد الخرز على ساقي الصبي أو المهد تعليلا له كذا في القنية.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية، الباب العشرون في الزينة،ج:5، ص:415)

(ولا يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها ‌فيحرم (‌بغيرها ‌كحجر) وصحح السرخسي جواز اليشب والعقيق وعمم....

(قوله فيحرم بغيرها إلخ) لما روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة قال: «نهى رسول الله - صلى الله تعالى عليه وسلم - عن خاتم الذهب» وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه: «أن رجلا جاء إلى النبي - صلى الله تعالى عليه وسلم - وعليه خاتم من شبه فقال له: مالي أجد منك ريح الأصنام فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا»...وفي الجوهرة والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجل والنساء.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الحضر والإباحة، فصل في اللبس،ج:9، ص:517)


فتویٰ نمبر : 6273/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں