بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

کرایہ دار کا مالک کی اجازت کے بغیر دکان کرایہ پر دینا


سوال

ایک کرایہ دار نے ایک دکان 5 سال کے معاہدے پر کرایہ پر لی،مگر دو سال بعدبغیر بتائےکسی اور کو  وہ دکان کرایہ پر دے دی،کیا اجرتی معاہدے میں ایسی تبدیلی شرعا درست ہے یا اصل مالک کی اجازت بھی ضروری ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ کرایہ دار کے لیے جائز ہے کہ وہ کرایہ پر لی گئی دکان کسی اور کواجارہ پر دے کر کرایہ وصول کرے، اگر چہ  مؤجر(مالک)نے اجازت نہ دی ہو،بشرطیکہ کسی ایسے شخص کو کرایہ پر نہ دی جائے جس کی صنعت و حرفت دکان کی عمارت کو متاثر کرے۔دوسری شرط یہ  کہ وہ کرایہ دار تیسرے شخص سے صرف اتنا ہی کرایہ وصول کر ے جتنا وہ خود موجر کواد اکر رہا ہے یا ا س سے کم ، زیادہ  کرایہ لینا شرعا جائز نہیں ہوگا۔

صورت مسؤلہ میں کرایہ دار نے اگر  دکان ایسے  شخص کو کرایہ پر دی ہے، جس کے کام کی نوعیت ا س پہلے کرایہ دار کے کام کی طرح ہے ،تو یہ معاملہ جائز ہوگا اگر چہ مؤجر(مالک) کی اجازت نہ ہو۔لیکن اگردکان ایسے شخص کو کرایہ پر دی ہوجس کے  کام کی نوعیت دوسرے شخص کے کام سے مختلف ہو  اور اس میں عمارت کو نقصان کا اندیشہ ہو،تو پھراصل مالک کی اجازت کے بغیر یہ معاملہ درست نہیں ہوگا۔

 

(المادة:٥٢٢) يجوز استئجار دار أو حانوت بدون بيان من يسكنها، ولا بيان ما يعمل فيها، فللمستأجر أن يسكنها بنفسه أو يسكنها غيره بإجارة أو اعارة ونحوها(تنوير). وله أن يسكنها وحده أو يسكنها غيره معه، ولو شرط عليه الموجر أن يسكنها وحده وكذا كل ما لايختلف بالإستعمال فإن التقييد فيه باطل لأنه غير مفيد. (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الإجارة، الباب السادس في أنواع المأجور وأحكامه، الفصل الأول في مسائل تتعلق بإجارة العقار، المادة:522، ج:2، ص:284)

‌الأصل ‌عندنا ‌أن ‌المستأجر ‌يملك ‌الإجارة ‌فيما ‌لا ‌يتفاوت ‌الناس ‌في ‌الانتفاع ‌به. ‌كذا ‌في ‌المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب السابع في إجارة المستأجر، ج:4، ص:425)

وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب السابع في إجارة المستأجر، ج:4، ص:425)


فتویٰ نمبر : 3792/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں