بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

افیون کی کاشت


سوال

ہمارے علاقے میں حکومت نے افیون کی کاشت پر پابندی لگائی ہے اس کے باوجود ہمارے علاقے میں افیون کی کاشت کی جاتی ہے لہذا اب اس کے کاشت اور تجارت اور آمدنی کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

 یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے،کہ آج کل معاشرے میں افیون کا استعمال بالعموم مضرصحت منشیات کے طور پر ہوتاہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ بطور منشیات متعارف ہے، اور لاکھوں لوگ اس کے عادی بن کر اپنی صحت اور زندگی کوداؤ پر لگا چکے ہیں۔چنانچہ ان حالات کےپیش نظر ہرعام وخاص  کے لیےاس کی کا شت کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔البتہ اگر حکومت دواؤں میں استعمال کی خاطریا کسی اور جائز مقصد کے لیے اپنی نگرانی میں محدود پیمانے پراس کو کاشت کرے تو اس کی گنجا ئش ہوگی۔

  صورت مسؤلہ کے مطابق افیون کا استعمال چونکہ عموما  نشہ کے لیے کیاجاتاہے اور نشہ آور چیزوں کا استعمال شرعا حرام ہے اور منشیات  کوفروغ دینے میں  افیون کی کاشت  اوراس کی تجارت کا بنیادی دخل ہےلہذا اس کی کاشت اور تجارت معصیت میں تعاون کی وجہ سے ناجائز ہے اسی طرح اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ۔ مزید یہ کہ حکومت  کا حکم اگر شریعت کے خلاف نہ ہوتو اس کوماننا واجب ہے لہذا جب حکومت  نے اس کی کاشت پر پابندی لگادی  ہے توشرعاوقانونا اس کی کاشت اور تجارت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

 

قال الله تعالى':﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ﴾ (المائدۃ:2).

قال ابن كثير: يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل.(تفسیر القرآن العظیم،ج:2،ص:12) 

عن نافع،عن ابن عمر،أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال "كل مسكرخمر.وكل مسكر حرام"(صحيح مسلم،كتاب الأشربة،باب بيان أن كل مسكر خمر،وأن كل خمرحرام،رقم الحديث:2003،ج:3،ص:1587)

ونقل في الأشربة عن الجوهرة حرمة أكل بنج وحشيشة وأفيون، لكن دون حرمة الخمر، ولو سكر بأكلها لا يحد بل يعزر انتهى.(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الحدود،باب حد الشرب،ج:4،ص:42)

السكر من ‌البنج ولبن الرمكة حرام بالإجماع كذا في جواهر الأخلاطي.(الفتاوى الهندية،كتاب الأشربة،الباب الثاني في المتفرقات،ج:5،ص:415)

أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة.(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب القضاء،مطلب طاعۃ الإمام واجبۃ،ج:5،ص:422)


فتویٰ نمبر : 6264/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں