بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

ایک کرنسی کو دوسری کرنسی کے بدلے بیچنا


سوال

اگر کسی نے3,50,000 پاکستانی روپوں سے امریکی ڈالرخرید لیے اوردو سال بعد ان ڈالروں کو پاکستانی روپوں کےبدلے بیچ کر19,600 روپے کا منافع حاصل  کیا۔ کیا اس طرح کا منافع لینااس کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ دو مختلف کرنسیوں کو کمی بیشی کےساتھ بیچنے میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ کرنسی کی تبدیلی سے جنس تبدیل ہوجاتی ہے،اور جب جنس بدل جائے تو کمی بیشی کےساتھ بیچنا جائز ہوجاتاہے۔

صورت مسؤلہ کی رو سے سائل کوامریکی ڈالرپاکستانی روپوں میں بیچنے سے جو نفع ہوا ہے شرعااس کے لیے حلال ہے ۔

 

وحل التفاضل بوجود أحدهما إما القدردون الجنس كالحنطة بالشعيرأوالجنس دون القدر كالهروي بالهروي لقولهعليه الصلاة والسلام { الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد.(تبیین الحقائق كتاب البيوع،باب الربا،ج:4،ص:57)


فتویٰ نمبر : 3799/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں