بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
چاند کی پیدائش اور اسلامی مہینوں کا آغاز
سوال
احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ چاند دیکھ کر مہینے کا آغاز کرو اس لئے مسلمان ہر مہینے کی 29 تاریخ کو آسمان پر نئے چاند کو ڈھونڈتے ہیں اور چاند نظر آ جائے تو اگلے مہینے کا آغاز کرتے ہیں۔ اصل مقصد اس بات کا تعین کرنا ہوتا ہے کہ نیا چاند وجود میں آ چکا ہے چاند دیکھنا اصل مقصد نہیں ہوتا ۔ لیکن پرانے زمانے میں یہی ایک طریقہ تھا کہ چاند دیکھ کر چاند کی پیدائش کا پتا کیا جائے کیونکہ اس وقت نہ دوربین تھی اور نہ جدید آلات اس لئے لوگ پہلی تاریخ کے چاند کو آسمان پر ڈھونڈتے تھے ۔ آجکل محکمہ فلکیات والے پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا اس لئے چاند کو آسمان پر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مہینے کے آغاز کے لئے چاند کی پیدائش کو معیار قرار دیا جائے اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کیا جائے ۔ علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کریں کیونکہ ان کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا ان کا یہی کام ہے وہ دن رات سورج چاند اور ستاروں پر تحقیق کرتے رہتے ہیں ۔ وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس لئے علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کریں ۔ محکمہ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے علماء کرام محکمہ فلکیات پر اعتبار نہیں کرتے اور عام آدمی کی شہادت پر اعتبار کرتے ہیں عام آدمی کے پاس نہ دوربین ہیں اور نہ جدید آلات۔ وہ بغیر کسی آلات کے آسمان پر چاند ڈھونڈتے ہیں اور اکثر غلطیاں کرتے ہیں چاند کی غلط شہادت دیتے ہیں اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں ہمارے ملک میں تین چار عیدیں عام آدمی کی غلط شہادت کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں لیکن ہمارے علماء کرام عام آدمی کی شہادت کو یہ کہہ کر قبول کر لیتے ہیں کہ عاقل بالغ آدمی نے شہادت دے دی ہے شریعت کا تقاضہ پورا ہو چکا ہے ۔ کیا عاقل بالغ آدمی سے غلطی نہیں ہو سکتی؟؟؟ ہمارے علماء کرام کو اس پر سوچنا چاہیے اور چاند دیکھنے کے کام کو عام آدمی کی بجائے محکمہ فلکیات کے حوالے کریں کیونکہ ان کا یہی کام ہے ۔ علماء کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ چاند کے حوالے سے محکمہ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں ۔ باقی کائنات کے بارے میں ان کی معلومات درست بھی ہوتی ہیں اور غلط بھی کیونکہ کائنات بہت بڑی ہے اس میں اربوں کھربوں ستارے موجود ہیں لیکن چاند تو زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اس لئے چاند کے حوالے سے محکمہ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں اور چاند پر ریسرچ کرتے ہیں انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس لئے موجودہ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ علماء کرام رویت ہلال کے کام کو محکمہ فلکیات کے حوالے کریں اور محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں محکمہ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں۔ جب تک علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری نہیں کریں گے اس وقت تک عوام محکمہ فلکیات کی بات پرعمل نہیں کرے گی اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں ۔ اور اس فتوے کو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کریں تاکہ سب لوگ اسے پڑھ سکیں۔
جواب
واضح رہے کہ شرعی احکام کا مدار چاند کی پیدائش یاافق پر موجود ہونے پر نہیں، اورنہ ہی عہدنبوی ﷺمیں آنکھ سے چاند دیکھناچاند کی پیدائش کی یقین دہانی کے لئے تھابلکہ شرعی احکامات کا مدار چاند کے آنکھوں سے دیکھے جانے پر ہے، عدت کے مسائل ہوں یا ماہ رمضان کی ابتداء و انتہاء ہو، یا عید منانے کا مسئلہ ہو، تمام احکامات کا مدار چاند کی رؤیت پر ہے نہ کہ چاند کی پیدائش یاافق میں موجود ہونے پر جیساکہ متعدد احادیث سے یہ بات ثابت ہے، اسلامی عبادات مثلا روزہ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ کا تعلق قمری مہینہ سے ہے، اور خصوصا رمضان مبارک کی تو ابتداء ہی چاند دیکھنے پر موقوف ہے، اور اس کے لیے رسول اللہ ﷺنے ایک آسان اور عام فہم طریقہ بتادیا کہ چاند دیکھنے پر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھنے پر افطار کرو، تاکہ ایک عام فہم،سادہ لوح مسلمان کے لیے بھی فرائض کی ادائیگی آسان ہو۔
عن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال:سمعت رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم يقول: "إذا رأيتموه فصوموا، وإذا رأيتموه فأفطروا، فإن غم عليكم فاقدروا له" (صحيح البخاري،كتاب الصوم،باب: هل يقال رمضان أو شهر رمضان،ومن رأى كله واسعا،رقم الحديث:1801،ج:2،ص:272)
وكذلك إن غم على الناس هلال شوال أكملوا عدة رمضان ثلاثين يوما، لأن الأصل بقاء الشهر وكماله، فلا يترك هذا الأصل إلا بيقين على الأصل المعهود، أن ما ثبت بيقين لا يزول إلا بيقين مثله(بدائع الصنائع،كتاب الصوم،فصل في انواع الصيام،ج:2،ص:80)
(قوله: ولا عبرة بقول المؤقتين) أي في وجوب الصوم على الناس بل في المعراج لا يعتبر قولهم بالإجماع، ولا يجوز للمنجم أن يعمل بحساب نفسه، وفي النهر فلا يلزم بقول المؤقتين أنه أي الهلال يكون في السماء ليلة كذا وإن كانوا عدولا في الصحيح كما في الإيضاح(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الصوم،مطلب:لا عبرةبقول المؤقتين في الصوم،ج:3،ص:354)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں