بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سیلزمین پر ٹریفک جرمانہ


سوال

کمپنی کی جانب سے سیلزمین کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ کام کے دوران ٹریفک قوانین کا خیال رکھے۔ اگر سیلز مین کی بےاحتیاطی کی وجہ سےاسے ٹریفک پولیس کی جانب سے کوئی جرمانہ کیا جائے اور کمپنی وہ جرمانہ ادا کرکے بعد میں سیلزمین سےاس جرمانے کے بقدر ہرماہ اس کی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ لے،توکیا شرعاً کمپنی کا یہ عمل درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہروہ ملازم جوکسی فرد یا ادارے کے ساتھ معین وقت میں مخصوص عوض کے بدلے خدمات انجام دیتا ہو،وہ اجیر خاص کہلاتا ہے،اجیر خاص کےساتھ مالک کا مال امانت ہوتا ہے،اور امانت کی ہلاکت پرکوئی ضمان نہیں آتا،تاہم اگر ملازم کی کوتاہی یالاپروائی کی وجہ سے کمپنی کوکوئی نقصان پہنچے،تو کمپنی کو اس کی ماہانہ تنخواہ سے اس نقصان کی تلافی کرنا جائزہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کمپنی کی واضح ہدایت کے باوجود سیلزمین کی غلطی یا لاپروائی کی وجہ سے اسے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر نےپر جرمانہ کیا جائے،تو اگرچہ قانوناً یہ جرمانہ گاڑی پر لگتا ہےاوراس کی ادائیگی بھی گاڑی کےاصل مالک پرلازم ہوتی ہے لیکن چونکہ سیلزمین کی کوتاہی اور لاپروائی کی وجہ سے جرمانہ کیا گیاہےاس لیے نقصان بھی سیلزمین ہی اٹھائے گا۔ لہذاکمپنی سیلزمین کی ماہانہ تنخواہ سے اس نقصان کی تلافی کرسکتی ہے۔

 

قال رحمه الله (وسلوك طريق غير ما عينه وتفاوتا) أي يجب الضمان إذا عين للمكاري طريقا وسلك هو غيره وكان بينهما تفاوت بأن كان المسلوك أوعر أو أبعد أو أخوف بحيث لا يسلك؛ لأن التقييد صحيح لكونه مفيدا فإذا خالف فقد تعدى فيضمن قيمته إن هلك.(تبیین الحقائق،کتاب الاجارہ،باب مایجوز من الاجارۃ،ج:5،ص:119)

حركة المستأجر على خلاف المعتاد تعد ويضمن الضرر والخسارة التي تتولد معها مثلا لو استعمل الثياب التي استكراها على خلاف عادة الناس وبليت يضمن كذلك لو احترقت.(شرح المجلۃ،لمحمد خالد الأتاسي،مادة رقم:603،ج:2،ص:703)


فتویٰ نمبر : 3788/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں