بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی پرانی تپائی کو جلانا


سوال

ہم نے مسجد کے لئے نئی پلاسٹک والی تپائی خریدی ہے اورلکڑی والی تپائی پرانی ہوگئی ہیں جوکہ استعمال کے قابل نہیں ہیں تو کیا ہم اس کو جلاسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

  واضح رہے کہ اگر مسجد کے لیے وقف اشیاء فی الحال استعمال میں نہ ہوں، لیکن آئندہ استعمال کی امید ہو اور وہ اشیاء محفوظ رہ سکتی ہوں تو انہیں  محفوظ رکھا جائے اور بوقتِ ضرورت اسی مسجد میں ہی استعمال کیا جائے، البتہ اگر آئندہ استعمال کی امید نہ ہو، یا محفوظ کرنا ممکن نہ ہو،  یا ضائع ہونے کا امکان ہو تو  ضرورت  سے زائداشیاء کو بیچ کرقیمت کو مسجد میں صرف کیا جائے گا۔فروخت کی صورت میں کوئی بھی خرید سکتاہے،البتہ  اگر کوئی چیز فروخت کرنے کے بھی قابل نہ ہو تو پھر اس کو جلانے یا  ضائع کرنے کی گنجائش ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگرتپائی پرانی ہوگئی ہو اور استعمال کے قابل نہ ہو تو بہتریہ ہے کہ  قریبی مسجد میں دے دی جائے جہاں استعمال ہو ،اور  اگر یہ ممکن نہ ہو تواگرفروخت کرنے کے قابل ہو تو  اس کو فروخت کرکے اس کی رقم مسجد کے مصالح میں استعمال کی جائےالبتہ اگر فروخت کرنے کے بھی قابل نہ ہو تو پھر اس کو جلا سکتے  ہیں۔

حشيش ‌المسجد ‌إذا ‌أخرج ‌من ‌المسجد ‌أيام ‌الربيع إن لم تكن له قيمة لا بأس بطرحه خارج المسجد ولمن رفعه أن ينتفع، كذا في الواقعات الحسامية حشيش المسجد إذا كانت له قيمة فلأهل المسجد أن يبيعوه وإن رفعوا إلى الحاكم فهو أحب ثم يبيعوه بأمره هو المختار۔( الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم وغيره في مال الوقف عليه،ج:2،ص:459)


فتویٰ نمبر : 6261/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں