بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا


سوال

زید نے رقیہ کی ماں کا دودھ پیا اور رقیہ نے زید کی ماں کا دودھ پیا، اب عمرو( جوکہ زید کا چھوٹا علاتی بھائی ہے )  رقیہ کی بیٹی  فاطمہ سے نکاح کر سکتا یا نہیں؟

جواب

 جو عورت کسی بچے کو مدت رضاعت کے اندر دودھ پلائے تو  وہ عورت اس بچے کی  رضاعی ماں بن جاتی ہے ، اور اس عورت کا شوہر اس بچے کا رضاعی باپ بن جاتا ہے ، اور  اس دودھ پینے والے بچے پر رضاعی ماں (دودھ دینے والی عورت ) اوررضاعی باپ (دودھ دینے والی عورت کا شوہر) دونوں کے اصول و فروع سب حرام ہوجاتے ہیں ،یعنی جس طرح حرمت رضاعی ماں سے ثابت ہوتی ہے اسی طرح رضاعی باپ سے بھی حرمت ثابت ہوتی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی رقیہ نے زید کی ماں کا دودھ پیا ہو،  تو جس طرح  زید کی ما ں رقیہ کی رضاعی ماں  بن گئی اسی طرح زید کا باپ رقیہ کا رضاعی باپ بن گیا،چنانچہ  عمرو  جو کہ زید کا علاتی بھائی ہے،  رقیہ  کا بھی رضاعی علاتی بھائی بن گیا،لہذا عمرو کے لیے رقیہ کی بیٹی فاطمہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے ،کیونکہ فاطمہ عمرو کی رضاعی بھانجی  ہے ،اور جس طرح نسب  میں  حقیقی، علاتی اور اخیافی  بہن  بھائیوں کی اولاد سے نکاح حرام  ہے اسی  طرح رضاعت میں بھی حقیقی، علاتی اور اخیافی   بہن بھائیوں کی اولاد سے نکاح حرام  ہے ۔

                  

عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله حرم من الرضاع ما حرم من النسب».(سنن الترمذي،أبواب الرضاع، ‌‌باب ما جاء يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب،ج:2،ص:145)

وتفسير تحريم لبن الفحل أن المرضعة تحرم على زوج المرضعة؛ لأنها بنته من الرضاع وكذا على أبنائه الذين من غير المرضعة؛ لأنهم إخوتها لأب من الرضاعة وكذا على أبناء أبنائه وأبناء بناته من غير المرضعة؛ لأنهم أبناء إخوة المرضعة وأخواتها لأب من الرضاعة. وعلى هذا إذا كان لرجل امرأتان فحملتا منه وأرضعت كل واحدة منهما صغيرا أجنبيا؛ فقد صارا أخوين لأب من الرضاعة. فإن كان أحدهما أنثى فلا يجوز النكاح بينهما؛ لأن الزوج أخوها لأبيها من الرضاعة، وإن كانا أنثيين لا يجوز لرجل أن يجمع بينهما؛ لأنهما أختان لأب من الرضاعة وتحرم على آباء زوج المرضعة؛ لأنهم أجدادها من قبل الأب من الرضاعة وكذا على إخوته؛ لأنهم أعمامها من الرضاعة وأخواته عمات المرضع فيحرمن عليه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الرضاع، فصل في المحرمات بالرضاع،ج:5، ص:66)


فتویٰ نمبر : 7172/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں