بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

سونےکا قرض دوسرے جنس سے اتارنا


سوال

ایک شخص نے کسی کو سونا قرض میں دیا تھا، کچھ وقت گزرنے کے بعد اب قرض  دہندہ اس مقروض(قرض دار) سے  اس سونے کے بدلے اس کی گاڑی  (ہنڈاسیوک )لیناچاہتاہے ،جس کی مالیت قرض دہندہ کے سونے کی مالیت  کے بقدر ہے ،توکیا قرض دہندہ اپنے قرض کی جگہ  قرض دار سے گاڑی لے سکتاہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ قرض دینا ایک عقد تبرع ہے،اس عقد میں ضروری ہے  کہ مقروض چیز ذوات الامثال میں سے ہو۔اگر کوئی شخص کسی کو سونا قرض میں دے دے اور واپسی کے وقت قرض دہندہ  قرض دار کی رضا مندی سے سونے کی بجائے کوئی دوسری  چیز لینا چاہے ، تو شرعاً اس کی اجازت ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر قرض دہندہ قرض دار کی رضامندی  سے سونے کی بجائے اس کی گاڑی(ہنڈاسیوک) قرض میں لے، تو شرعااس کی گنجائش ہے ۔

 

ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون والعددي المتقارب كالبيض ولا يجوز فيما ليس من ذوات الأمثال كالحيوان والثياب والعدديات المتفاوتة.(الفتاوى الهندية، کتاب البیوع، الباب التاسع عشر فی القرض والاستقراض والاستصناع، ج:3، ص:201)

المديون إذا قضى الدين أجود مما عليه لا يجبر رب الدين على القبول كما لو دفع إليه أنقص مما عليه، وإن قبل جاز كما لو أعطاه خلاف الجنس وهو الصحيح.(الفتاوى الهندية، کتاب البیوع، الباب التاسع عشر فی القرض والاستقراض والاستصناع، ج:3، ص:204)

واستبدال ‌القرض قبل القبض جائز.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب البیوع، فصل في بیان ما یجوز من التصرف في المسلم فیه وما لا یجوز، ج:5، ص:214)


فتویٰ نمبر : 3798/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں