بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رمضان میں صدقہ فطر دینے کا حکم


سوال

سوال:ميں نے رمضان میں سرسایہ ادا کیا ہے مجھ سے ایک ساتھی  نے کہا کہ عید الفطر کےدن سے پہلے سرسایہ ادا نہیں ہوگادوبارہ ادا کرنا ہوگا،توكيا فطرانہ (سرسایہ) کا کوئی وقت مقرر ہے یا رمضان المبارک میں کسی بھی وقت آپ دے سکتے ہیں ؟

جواب

صدقہ فطر واجب ہونے کا اصل وقت عیدالفطر کے دن صبح صادق  کا وقت ہے، (یعنی جس وقت فجر کا وقت داخل ہوتا ہے اور سحری کا وقت ختم ہوجاتاہے) اسی وقت صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔ اور عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کرنا ضروری ہے، البتہ اگر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا تو بعد میں بھی ادا کرنا ہوگا،نیزمستحقین کی ضرورت کو مدنظر رکھ  کر یہ صدقہ عیدالفطر سے پہلے رمضان المبارک میں بھی ادا کیا جاسکتاہے،  جیسا کہ صحابی رسول عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا ذکر کتب آحادیثِ مبارکہ میں موجود ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں سرسایہ ادا ہواہے،دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر ،أو صاعامن شعير على العبد والحر،والذكر والأنثى،والصغيروالكبير من المسلمين،وأمربهاأن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة» (صحيح البخاري،باب  فرض صدقةالفطر ، رقم الحديث :1503،ج:2،ص:130)

عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال:"فرض النبي صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر أو قال:رمضان،على الذكروالأنثى،والحر،والمملوك صاعامن تمر،أو صاعامن شعير« فعدل الناس به نصف صاع من بر، فكان ابن عمر رضي الله عنهما،» يعطي التمر «، فأعوز أهل المدينة من التمر، فأعطى شعيرا»، فكان ابن عمر «يعطي عن الصغير، والكبير، حتى إن كان ليعطي عن بني»، وكان ابن عمر رضي الله عنهما يعطيهاالذين يقبلونه،وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين» ۔(صحيح البخاري،باب صدقةالفطر على الحروالمملوك،رقم الحديث:1511،ج:2ص:131)

"والمختار إذا دخل شهر رمضان یجوز وقبله لایجوز، وفي الظہیریة: وعلیه الفتوی".(الفتاوى التاتارخانية،الفصل الثالث عشر فى صدقةالفطر،ج:3،ص:452)


فتویٰ نمبر : 10484/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں