بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسافر کاپوری نماز پڑھنا


سوال

اگر کسی نے سفر میں پوری نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

جواب

مسافر  اگرتنہا نماز ادا کرے تو اس پر چار رکعات والی نماز میں قصر کرنا یعنی  دو رکعت پڑھنا واجب ہے۔  اگر پوری چار رکعت تنہا پڑھے گا تو دو صورتیں ہیں:

1۔۔ اگر دوسری رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو تو فرض نماز ادا ہوجائے گی،   پہلی دو رکعتيں فرض ہوجائیں گی اور دوسری دو رکعتيں نفل ہوجائیں گی، یہ تب کہ قصدا ًوعمداًپوری نماز پڑھ لی ہو،اور اگر سھواًپوری نماز پڑھ لی ہو تو پھر سجدہ سھوا کرنا لازم ہے۔

2۔   اگر دوسری رکعت کے بعد قعدہ میں نہ بیٹھا ہو,تو اس کی فرض نماز باطل ہوجائے گی اس لیےاس پر فرض نماز لوٹانا واجب ہوگا۔

 

 (فإذا أتم الرباعیة و)الحال أنہ (قعد القعود الأول) قدر التشھد (صحت صلاتہ) لوجود الفرض في محلہ وھو الجلوس علی الرکعتین وتصیر الأخریان نافلة لہ( مع الکراھة) لتأخیر الواجب وھو السلام عن محلہ إن کان عامداً فإن كان ساهيا يسجد للسهو (وإلا) أي: وإن لم یکن قد جلس قدر التشھد علی رأس الرکعتین الأولیین (فلا تصح) صلاتہ لترکہ فرض الجلوس في محلہ واختلاط النفل بالفرض قبل کمالہ (قولہ: ”لتأخیر الواجب“:وترک واجب القصر وترک افتتاح النفل وخلطہ بالفرد، وکل ذلک لا یجوز ۔(حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح ،کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ص:345)

 (فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولیٰ تم فرضه) ولکنه( أساء) لو عامداً لتاخیر السلا م، وترک واجب القصر، وواجب تکبیرة الإفتتاح لنقل، وخلط النفل بالفرض و هذا لا یحل۔(الدر المختار على صدر ردالمحتار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج:2ص:610،609)


فتویٰ نمبر : 10484/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں