بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں اپنی اولاد کے مابین تقسیم جائیداد کا طریقہ کار


سوال

میں مسماۃ چاند بی بی اپنی جائیداد اپنی زندگی میں اولاد کے مابین تقسیم کرنا چاہتی ہوں۔ براہ کرم شریعت کی روشنی میں میری راہ نمائی کریں کہ مجھے کیسے تقسیم کرنا چاہیے؟ میری اولاد میں دو بیٹے (راج ولی خان، سرتاج علی) اور تین بیٹیاں (شاجہانہ بی بی، گل جانہ بی بی  اور انور جان بی بی) ہیں جب کہ شوہر فوت ہو چکے ہیں۔   نیز کچھ حصہ میں اپنے لیے  رکھنا چاہتی ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں ہر شخص کو اپنے ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا  اختیار حاصل ہے، چاہے تو اس کو اپنے پاس چھوڑ دے یا اولاد میں تقسیم کرے، چنانچہ اگر کوئی  اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال و جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں میں سے  سب کو برابر حصہ دے تاہم اگر میراث کے طریقے پر بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگناحصہ دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر سائلہ اپنی جائیداد اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہے، تواسے چاہيے کہ پیش آمدہ ضرور یات کا خیال رکھتے ہوئے اتنی مقدار میں اپنے پاس چھوڑ دے کہ کل کسی کا احتیاج نہ ہو ۔اس کے لیے شرعا ًکوئی مقدار متعین نہیں بلکہ خود اپنی صوابدید پر اپنے لیےحصہ رکھ دے ۔ باقی جائیداد اگر اولاد کے درمیان خوشی کے ساتھ تقسیم کرنا چاہے تو اس کا مستحب اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیٹے اور بیٹی کو برابر حصہ دے تاہم یہ بھی جائز ہے کہ بیٹیوں کی بنسبت  بیٹوں کو دوگنا دے دے ۔

 

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة، أراد تفضيل البعض على البعض، في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا... عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الاضرار، وإن قصد به الاضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل الابن, وعليه الفتوی.(الفتاوى الهندية، الباب السادس في الهبة للصغير، ج 4، ص 391)

وفي الذخيرة: وإذا أراد الرجل أن يفضل بعض أولاده في الهبة في حال الصحة، روي عن أبي حنيفة: أنه لا بأس به إذا كان التفضيل بسبب زيادة الفضل له في الدين، فإن كانا سواء يكره، هكذا ذكر في بعض المواضع. وعن أبي يوسف: أنه لا بأس به إذا لم يرد الاِضرار بالثاني، وذكر في بعض المواضع: إن كان التفضيل بالزيادة فلا بأس بذلك، وإن كانا في البر سواء لا ينبغي أن يفعل ذلك. وان كان له ولد فاسق لا يعطيه. وينبغي أن لا يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له على المعصية.   (الفتاوى التاتارخانية، كتاب الهبة ، الفصل السادس فی الهبة من الصغير ج:14، ص:462)


فتویٰ نمبر : 6258/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں