بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرآنی قاعدہ ناپاک جگہ میں گرنے کی صورت میں شریعت کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں ایک بچے سے قرآنی قاعدہ لیٹرین میں گر گیا ہے،اورہم نے اس کے نکالنے کی بہت کوشش کی،لیکن کامیاب نہ ہوسکے،اب دوہی صورتیں ہیں کہ یا تو اس لیٹرین کو توڑا جائےجس میں ہمارے لیے کافی خرچ اور دشواری ہے،اور یا اس پر پانی بہایا جائے،تو ایسی صورتحال میں شریعت کیا حکم دیتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ قرآن مجیداور اس سے متعلقہ کوئی چیز جیسے قاعدہ ،پارہ یا ورق وغیرہ کا ادب و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے، اور اس کے ساتھ ادنیٰ درجے کی بے ادبی بھی ناجائز اور گناہ ہے۔ اگر قرآن مجید یا اس سے متعلقہ کوئی چیز (جیسے قاعدہ) گندگی کی جگہ میں چلی جائے تو حتی الوسع اس کو نکالنالازم ہے،اور بے ادبی سے بچانا واجب ہے، اور پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی پاک جگہ میں دفن کرنا بہتر اور افضل ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں بہتریہی ہے کہ قرآنی قاعدے کو اس جگہ سے نکالا جائے،لیکن اگر حتی الوسع کوشش  کے باوجودنہ نکالا جاسکے ،تو اگرلیٹرین کوتوڑکراسے دوبارہ بنانا اس کے لیے ممکن ہو یعنی مالی بوجھ برداشت کر سکتا ہو تو توڑ کرنکالے،لیکن اگر یہ اس کی وسعت سے باہر ہو،تو پھرنہ  نکالنےکی گنجائش ہے۔

 

"و في الذخيرة: المصحف إذا صار خلقًا و تعذر القراءة منه لايحرق بالنار ... و لايكره دفنه، و ينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، و يلحد له لأنه لو شقّ و دفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، و في ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه ... لاتصل إليه يد محدث و لا غبار، و لا قذر تعظيمًا لكلام الله عز وجل". ( رد المحتار،كتاب الحظر و الاباحة، فرع يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس، ج:6، ص:422 )

أن التضييق في الشرع مدفوع مرفوع فلا تكليف الا بحسب الوسع اي الطاقة والقدرة الممكنة وتندرج تحت قاعدة المشقة تجلب التيسير.( القواعد الفقهية، رقم القاعدة:25، مفاد القاعدة، ج:5، ص:107 )

والقدرة الأولى (الممكنة) شرط في أداء كل واجب.( فواتح الرحموت بشرح مسلم الثبوت، مسالة قسم الحنفية القدرة إلى ممكنة وإلى ميسرة، ج:1، ص:115 )

المصحف إذا صار خلقًا لايقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك. (الفتاوي الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن.( ج:5، ص:323 )


فتویٰ نمبر : 6256/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں