بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سیلزمین کا دوسری کمپنی کی مصنوعات فروخت کرنااور اس پر تنخواہ سے کٹوتی کرنا


سوال

ہماری  کمپنی میں ہمارے ساتھ سیلزمین ہیں،جن کو ہر مہینہ ان کی بنیادی تنخواہ (Basic salary)  کے علاوہ ان کو ٹارگٹ پورا کرنے پر کمیشن دی جاتی ہے کمپنی کی طرف سے سلزمین کو یہ  ہدایت ہوتی ہے کہ  مقررہ اوقات میں کمپنی کے کاموں کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کرنا ہے،اس کے  باوجود بعض سیلزمین کام کے دوران خفیہ طور پر کسی دوسری کمپنی کی مصنوعات فروخت کرتے ہیں،اس جرم پر کمپنی سیلزمین کو برطرف کرتی ہے یا اس کی ماہانہ تنخواہ سے 40 فیصد کٹوتی کرتی ہے شرعاً، کمپنی کا یہ عمل کیسا ہے؟

جواب

   جس ملازم کو متعین وقت کے عوض  متعین اجرت ملتی ہو،وہ اجیر خاص کہلاتا  ہے اور اجیر خاص کو مقررہ وقت میں اپنے مالک کی طرف سے سپرد کردہ کام کے علاوہ دوسرا کام  کرنے کی گنجائش نہیں،چنانچہ اگروہ  کام کے مقررہ وقت میں کسی دوسرے کےلیے کام کرے،تو جتنا وقت غیر متعلقہ  کام  پر صرف کیا ہےاس کے بقدر اس کی تنخواہ سے کٹوتی کرناجائزہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  تنخواہ دار سیلزمین کا کمپنی کی طرف سے مقررہ وقت میں دوسری کمپنی کی مصنوعات فروخت کرناجائز نہیں،نیز اس جرم پر اگر کمپنی سیلزمین کو ملازمت سے برطرف کرتی ہےتو شرعااس کی گنجائش ہے،اور اگراس کی ماہانہ تنخواہ سے کٹوتی کرتی ہے تواگر دوسری کمپنی کے لیے  کئے گئے کام  کا وقت معلوم ہوتواسی کے بقدر کٹوتی جائز ہے تاہم اگراس وقت اور کام کی مقدار معلوم نہ ہو اور کمپنی نے سیلزمین  کے ساتھ  پہلے سے معاہدہ بھی کیا ہو کہ اس جرم پر 40 فیصد کٹوتی ہوگی،تو معاہدے کے مطابق سیلزمین سے 40 فیصد تنخواہ کی کٹوتی  کی گنجائش ہے۔

 

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم)(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الأجارۃ،مبحث الأجیرالخاص،ج:6،ص:69)

 وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الأجارۃ،مبحث الأجیر الخاص،ج:6،ص:70)

وقال النبي صلى الله عليه وسلم المسلمون ‌عند ‌شروطهم(صحیح البخاري،كتاب الأجارة،باب أجر السمسرة،ج:3،ص:96)


فتویٰ نمبر : 3785/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں