بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

دوران نمازخون کا نکلنا


سوال

 اگر نماز کے دوران انگلی سے خون نکل جائے  تو ایسی نماز کا کیاحکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر خون جسم سے نکل کر ٹپک جائے یا اپنے مقام سے بہہ کر اس جگہ تک پہنچ جائے  جس کا دھونا وضو یا غسل میں فرض ہے  تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اوراگر نماز کے دوران کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ وضو کرکے اسی جگہ سے نماز پڑھ سکتا ہے جہاں وضو ٹوٹا تھا اور اگر وہ چاہے تو از سر نو نماز پڑھ سکتا ہے البتہ جس شخص کا وضو  ٹوٹا  ہے اگر وہ منفرد  (اکیلے نماز پڑھنے والا) ہے تو اس کے لیے استیناف یعنی از سر نو نماز پڑھنا  افضل ہے، اگر وہ امام یا مقتدی ہےتو اگر وضو کرنے کے بعد دوبارہ جماعت کا پاناممکن ہو تو از سر نو نماز پڑھنا افضل ہے اور اگر وضو کے بعد جماعت  نہ ملے تو بنا کرنا  یعنی اسی نماز کو مکمل کرنا افضل ہے،  البتہ اس کے لئے  چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہےجو کہ درجہ ذیل ہیں۔

(1)ایسی حدث ہو جو موجب للوضوء ہو اور یہ حدث بندے کے اختیار میں نہ ہو بلکہ سماوی ہو  یعنی کسی بندے کے اختیار میں نہ ہو جیسا کہ اگر بندوق سے گولی مارے اور خون نکل جائے تو ایسی صورت میں بنا کرنا جائز نہیں ۔

(2) حدث لاحق ہوجانے کے بعد جب وضو کے لئے جائے تو کوئی ایسا عمل نہ کرے جو نماز کے منافی ہو جیسے کھانا یا پانی پینا  وغیرہ ۔

(3)تیسری شرط یہ ہے کہ حدث لاحق ہونے کے بعد فورا وضو کے لئے جائے چنانچہ اگر حدث لاحق ہونے کے بعد کوئی رکن ادا کیا یا  ایک رکن ادا کرنے کے وقت کے برابر ٹھہرا رہا  تو ایسی صورت میں بنا جائز نہیں ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر نماز کے دوران انگلی سے خون نکل جائےاور بنا کی شرائط پائی جائیںتووہ بنا کرسکتا ہےیعنی وضو کرکےاسی جگہ سے نمازشروع کرے جہاں وضو ٹوٹ چکا تھا اوراگرچاہے تو ازسرنو بھی نماز پڑھ سکتا ہے، اوراگر بنا کی شرائط نہ پائی جائیں تو ایسی صورت میں نماز فاسد ہوجائیگی اورازسر نو پڑھنا لازم ہوگا۔

 

(ومنها) ما يخرج من غير السبيلين ويسيل إلى ما يظهر من الدم والقيح والصديد والماء لعلة وحد السيلان أن يعلو فينحدر عن رأس الجرح. كذا في محيط السرخسي وهو الأصح. (الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة،الفصل الخامس في نواقض الوضوء،ج:1،ص:10)

‌من ‌سبقه ‌حدث توضأ وبنى. كذا في الكنز. والرجل والمرأة في حق حكم البناء سواء. كذا في المحيط ولا يعتد بالتي أحدث فيها ولا بد من الإعادة هكذا في الهداية والكافي والاستئناف أفضل. كذا في المتون وهذا في حق الكل عند بعض المشايخ وقيل هذا في حق المنفرد قطعا وأما الإمام والمأموم إن كانا يجدان جماعة فالاستئناف أفضل أيضا وإن كانا لا يجدان فالبناء أفضل صيانة لفضيلة الجماعة وصحح هذا في الفتاوى كذا في الجوهرة النيرة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب السادس في الحدث في الصلاة،ج:1،ص:93)

(ثم لجواز البناء شروط) :

(منها) أن يكون الحدث موجبا للوضوء ولا يندر وجوده وأن يكون سماويا لا اختيار للعبد فيه ولا في سببه. هكذا في البحر الرائق ،ولو أصاب المصلي حدث بغير فعله كما لو أصابته بندقة أو رماه إنسان بحجر أو مدر فشج رأسه أو مس أحد قرحه فأدماه لا يجوز له البناء في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -. هكذا في شرح الطحاوي۔

(ومنها) أن لا يفعل بعد الحدث فعلا منافيا للصلاة حتى إذا سبقه الحدث ثم تكلم أو أحدث متعمدا أو قهقه أو أكل أو شرب أو نحو ذلك لا يجوز له البناء۔

(ومنها) أن ينصرف من ساعته حتى لو أدى ركنا مع الحدث أو مكث مكانه قدر ما يؤدي ركنا فسدت صلاته. (الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب السادس في الحدث في الصلاة،ج:1،ص:94)


فتویٰ نمبر : 10477/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں