بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قرآن کی تلاوت کی نذر ماننا


سوال

میں  نےنذر مانی تھی کہ جب میرا بیٹا امتحان میں پاس ہوجائے تو میں قرآن مجید کی ختم کرونگا تو کیا قرآن مجید کی نذر ماننا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ نذر کےصحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس کام کی نذرمانی جائے وہ کام قربت اورعبادتِ مقصودہ ہو،جیسے نماز، روزہ ،زکاۃ،حج وغیرہ، اسی طرح جس کام کی نذر مانی جائے اس کی جنس سے کوئی فرض یا کم از کم واجب ضرورہو، اس کے علاوہ میں نذر منعقد نہیں ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا قرآن کی تلاوت کی نذرماننا منعقد نہیں ہوا ہے کیونکہ تلاوت کی جنس سے فرض یا واجب موجود نہیں ۔

 

(ومن نذر) بما هو واجب قصدا من جنسه وهو عبادة مقصودة (نذرا مطلقا) غير معلق بشرط بقرينة التقابل مثل أن يقول لله علي حج أو عمرة أو اعتكاف أو لله علي نذر وأراد به شيئا بعينه كالصدقة، فإن هذه عبادات مقصودة ومن جنسها واجب، وإنما قيد النذر به؛ لأنه ‌لم ‌يلزم ‌الناذر ‌ما ‌ليس ‌من ‌جنسه ‌فرض كقراءة القرآن وصلاة الجنازة ودخول المسجد وبناء المساجد۔(مجمع الأنهر،كتاب الأيمان،فصل في حروف القسم،ج:1،ص:547)

‌ولا ‌يصح ‌النذر ‌بقراءة ‌القرآن وصلاة الجنازة وتكفين الموتى۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الإيلاء،ج:3،ص:462)


فتویٰ نمبر : 10477/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں