بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیرمتنازعہ جائیدادکی ملکیت کااثبات اوروراثتی حق


سوال

میرے والدمحترم نےتقریباً پچاس سال قبل ایک رقبہ تقریباً4 ایکڑخریداتھا جسکے پلاٹ بناکرفروخت کئے اب وہ تمام علاقہ ایک گنجان آبادی ہے لیکن اس رقبہ کے بالکل آخرمیں ایک کونے پرایک پلاٹ خالی پڑاہے تقریباً چھ سات مرلہ کا خالی پڑاہے جس کا آج تک کوئی دعویدارنہیں ہے۔اب میراسوال یہ ہے کہ ایسی جگہ جس کی سابقہ ملکیت ہمارے مرحوم والد صاحب کی یقینی ہے لیکن انہوں نے آگے فروخت کردی یا نہیں،اس کا ہمیں علم نہیں اور محکمہ مال میں بھی ریکارڈ نہیں اورجگہ کاکوئی دعویداربھی نہیں توکیاوہ جگہ ہماری ملکیت تصورہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس چیزکا کوئی مالک ہو اور پھر اس کی ملکیت ختم ہونے کا کوئی سبب(جیسا کہ ہبہ ،بیع وغیرہ) ثابت نہ ہو،تووہ چیزاسی کی ملکیت شمارہوگی ۔

لہذاصورت مسؤلہ میں اگرواقعتا اس زمین پرسابقہ ملکیت سائل کے والد کی تھی اوراس پرکسی دوسرے کی ملکیت کاثبوت نہ ہو،اورکوئی دعویداربھی نہ ہو،تواس صورت میں یہ زمین سائل کے والد کی وفات کے بعداس کے ورثاء کی ملکیت تصورہوگی۔البتہ اگربعد میں کوئی اس زمین کامالک مل گیا اوراس كے ساتھ معتبرثبوت ہو،تویہ زمین اس کوواپس کی جائےگی۔

 

ما ثبت بزمان یحکم ببقاء ما لم یقم الدلیل علی خلافه، فاذاثبت بزمان ملك شیءلأحد یحکم ببقاء الملك له مالم یوجدمایزیله (الی قوله) فمن کان مالکاً لعین ملکية ثابتة متحققة فیمامضی،لایخرج عن ملكه فیمابعد،إلا بإثبات ما یزیله،بنحوهبة أوبیع أواقرارالخ (شرح المجلة:المادة:10 ،ص 29)۔


فتویٰ نمبر : 6266/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں