بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

گاڑی خرید کر اجارہ پر دینا


سوال

اگر کوئی آدمی  گا ڑی خرید کر کسی کو اجارہ پر دیدے  لیکن اس شرط کے ساتھ کہ تم جو کچھ کما ؤگے اس میں سے" پانچ سو  روپے" روزانہ کےاعتبار سےمجھے دیناباقی تم استعمال کرو ،تو کیا یہ اجارہ شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ گاڑی خرید کر کرایہ پر دینا اجارہ کامعاملہ ہے ، اور اجارہ  کی شرائط میں سے ایک شرط یہ  بھی ہے کہ اجرت اورمدت متعین  ہو، بصورت دیگر اجارہ فاسد   ہوگا ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق گاڑی کے مالک کا کسی کو گاڑی کرایہ پر دینا اور یومیہ پانچ سو روپے بطور اجرت طے کرنا جائزہے،ایسی صورت میں گاڑی چلانے سے حاصل ہونے والی باقی ساری کمائی ڈرائیور کی ہوگی ۔جب کہ اس     پرروزانہ 500 روپے مالک کو دینا لازم ہوگا،نیز اگر کسی دن اس کوکم مزدوری ہو یا وہ گاڑی نہ چلائے تو اس دن بھی وہ  مالک کو کرایہ دینے کا پابند ہوگا۔

 

حتى أن ‌من ‌استأجر ‌دابة ‌يوماً ‌لأجل ‌الركوب فحبسها المستأجر في منزله ولم يركبها حتى مضى اليوم فإن استأجرها للركوب في المصر يجب عليه الأجر لتمكنه من الاستيفاء في المكان الذي أضيف إليه العقد،(الفتاوی الھندیة ،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی،فی بیان أنه متی تجب الأجرۃ وما یتعلق به من الملک وغیرہ،ج4،ص:413)

"ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة"(الھدایة شرح بدایة المبتدی،کتاب الإجارة،:ج:2،ص:296)


فتویٰ نمبر : 3779/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں