بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح نامہ اور فارم ب میں نام مختلف ہونے سے نکاح کا حکم


سوال

نکاح  نامہ میں بچی کا نام" خنسہ" لکھا  گیا ہے جبکہ فارم ب میں "حنسہ "ہے اور انگریزی میں "khansa"  ہے،فارم ب میں غلطی سے نقطہ رہ گیا ہے اور  نکاح پڑھاتے وقت " حنسہ "کا نام لیا گیا ہے اور نکاح نامہ میں "khansa" کا دستخط بھی کیا گیا ہے، ،تو کیا ایسی صورت میں نکاح شرعا درست ہوا یا متنازعہ ہوا ،اور لڑکی کی عمر فارم ب کے مطابق 16 برس ہے۔

جواب

واضح رہے کہ نکاح گواہوں کے سامنےایجاب وقبول کرنے سے منعقد ہوجاتاہے ۔

صورت مسئولہ میں اگر نکاح کا انعقادصحیح طریقے سے ہوچکا ہو، اورنکاح پڑھاتے وقت لڑکی کاصحیح نام لیا گیا ہو،جس سے اس کی واضح تعیین ہوگئی ہو،تو یہ نکاح   منعقد ہونے کے لیے کافی ہے،پھرفارم ب میں یانکاح نامہ میں  نام کی غلطی سے نکاح کی صحت پرشرعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔

 

(وینعقد) متلبسا (بإیجاب) من أحدھما (وقبول) من الآخر. (الدر المختار علی صدر ردالمحتار، کتاب النکاح، ج:4، ص: 68-69)


فتویٰ نمبر : 7165/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں