بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ایڈوانس زیادہ دینے کی وجہ سے کرایہ کم کرنا


سوال

 ایڈوانس زیادہ دے کر ماہانہ اجرت میں کمی کرنا  کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر ایڈوانس رقم   زیادہ دی جائے ،اس شرط کے ساتھ کہ  کرایہ مروجہ مقدار سے کم ہوگا، تو یہ سود کے حکم میں  ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،اس لیے کہ ایڈوانس رقم درحقیقت مالکِ مکان کے ذمہ قرض ہوتی ہے،اور قرض کے عوض میں کسی قسم کا مشروط نفع اٹھانا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔

لہذا  صورت ِ مسئولہ میں جب ایڈوانس کی  زیادتی کی وجہ سے کرایہ میں کمی کی جاتی ہے توشرعاً یہ ناجائز ہے ، اس طرح کے معاملہ سے اجتناب کیا جائے۔

 

( ‌تفسد ‌الإجارة ‌بالشروط ‌المخالفة ‌لمقتضى ‌العقد، فكلما أفسد البيع ) مما مر ( يفسدها ) كجهالة مأجور، أو أجرة، أو مدة، أو عمل، وكشرط طعام عبد، وعلف دابة، ومرمة الدار، أو مغارمها.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ‌‌كتاب الإجارة، ‌‌باب الإجارة الفاسدة، ص:579 )

وأما الربا فهو ثلاثة أوجه:أحدها في القروض، والثاني في الديون، والثالث في الرهون، الربا في القروض:فأما في القروض فهو على وجهين:أحدها أن يقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهما، أو باثني عشر ونحوها، والآخر أن يجر إلى نفسه منفعة بذلك القرض، أو تجر إليه وهو أن يبيعه المستقرض شيئا بأرخص مما يباع، أو يؤجره، أو يهبه.....ولو لم يكن سبب ذلك هذا القرض لما كان ذلك الفعل؛ فان ذلك ربا.( النتف في الفتاوى، كتاب الولاء، ‌‌أنواع الربا، ج:1، ص:485 )


فتویٰ نمبر : 3796/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں