بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مشتری کے قبضے سے پہلے مبیع کا ہلاک ہوجانا


سوال

 میرے بھائی نے ایک بکری خریدی تھی ،جس کی قیمت 30000 روپے تھی،اس نے اسی وقت 10000 روپے دے دیئےاورکہا بکری کو دو دن بعد لے جاؤں گا،پھر جب دو دن بعد وہ بکری لینے گیا تو وہ بکری مرچکی تھی،تو اب سوال یہ ہے کہ میرا بھائی بیچنے والے سے وہ 10000 روپے واپس لے گا یا وہ باقی 20000 روپے تاوان بھی اس پرآئے گا؟

جواب

واضح رہے کہ خریدی  گئی چیزپرخریدارکےقبضہ کرنے سے پہلےاگروہ چیزہلاک ہو جائے تو اس کا تاوان فروخت کنندہ کے ذمے ہوگا اور خریدارسے پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر خریدار نے بکری پر قبضہ کرلیا تھا، اورپھراپنی مرضی سے بکری بیچنے والے کے پاس  چھوڑ دی تھی، تو اس صورت میں بکری کے مرنے سے جو نقصان ہوا ہےاس کا تاوان خریدارپرآئے گا، اور بیچنے والا باقی رقم لینے کا حق دارہوگا ،تاہم اگر فروخت کنندہ نےمشتری کوابھی تک بکری کا قبضہ نہیں دیا تھا،تو پھراس صورت میں سارا تاوان فروخت کنندہ پر ہوگا ،لہذا وہ باقی قیمت کا حق دار نہیں، بلکہ جو 10,000 روپے لے چکا ہے، وہ بھی واپس کرے گا۔

 

ولو هلك في يد البائع انفسخ البيع ولا شيء على المشتري اعتبارا بالبيع الصحيح المطلق.(الهداية،باب خيار الشرط،ج:3،ص:30)

وفي الفتح والدر المنتقى: لوهلك المبيع بفعل البائع أو بفعل المبيع أو بأمر سماوي، بطل البيع ويرجع بالثمن لو مقبوضا وإن هلك بفعل المشتري، فعليه ثمنه إن كان البيع مطلقا أو بشرط الخيار له.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،فرع ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف،ج:4،ص:560)

إذا بيع مال على أن يسلم في محل كذا لزم تسليمه في المحل المذكور.(شرح المجلة لخالد الأتاسي،المادة:287،كتاب البيوع،الباب الخامس في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم،ج:2،ص:218)


فتویٰ نمبر : 3786/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں