بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 16/08/2026 |
دارالافتاء
قرض کو مقررہ وقت میں ادا نہ کر کے اس سے آگے کاروبار کرنا
سوال
ایک شخص نے کسی کو کچھ پیسے ایک متعین مدت تک قرض پر دیےتھے اس کے بعد قرض خواہ نے ٹال مٹول کر کے وہ پیسے مقررہ مدت تک واپس نہیں کیے ،بلکہ اس سے کاروبار کیا اور اس میں خوب نفع بھی کمایا ۔اب قرض دار کہتا ہے کہ آپ نے میرے پیسے سے جو نفع کمایا ہے لہذا یہ حرام ہے، کیا قرض دار کا اس طرح کہنا کہ آپ کی آمدنی حرام ہےازروئے شریعت صحیح ہے یا نہیں ؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے مقروض (جسے قرض دیا گیا ہے) قرض دی گئی رقم کا مالک بن جاتا ہے لہذا وہ اس میں ہر جائز تصرف کر سکتا ہے۔ قرض کی واپسی کے وقت مقروض پر لازم ہے کہ اتنی ہی رقم واپس کرےجتنی اس نے لی ہو،باقی نفع یا نقصان اس کا ذاتی معاملہ ہے۔لہٰذا، اگر مقروض نے قرض کی رقم سے کاروبار کر کے نفع کمایا ہو، تو یہ نفع اس کا ہو گا، قرض دہندہ کا اس نفع میں کوئی حق نہیں۔
لہذا صورت مسؤلہ میں چونکہ قرض کی رقم مقروض کی ملکیت میں داخل ہو گئی تھی، اس لئے جو نفع اس نے حاصل کیا ہے، وہ اس کی ملکیت ہے اس کے لیے حرام نہیں ہے۔قرض دہندہ کا یہ کہنا کہ "آپ کی آمدنی حرام ہےشرعی اعتبار سے صحیح نہیں ۔البتہ مقروض نے بلا عذر تاخیر کی تو یہ ظلم ہے اسے ایسا نہیں کرناچاہیے تھا ،تاہم اس کی وجہ سے اس کا نفع حرام نہیں ہو جا تا ۔
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « مطل الغني ظلم، وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع ».(الصحیح لمسلم ،کتاب المساقاة،باب تحریم مطل الغنی،ج1،ص18)
قال الفقيه - رحمه الله تعالى - لا بأس بأن يستدين الرجل إذا كانت له حاجة لا بد منها وهو يريد قضاءها ولو استدان دينا وقصد أن لا يقضيه فهو آكل السحت كذا في القنية.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهة،الباب السابع والعشرون في القرض والدين ج:2،ص:366)
القرض یملک به المقترض المال، و یجب علیه رد مثله.( المغني لإبن قدامه،باب القرض،ج:4ص:436)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں