بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پنشن کو حکومت کے پاس چھوڑ کراضافی رقم لینا


سوال

آج کل حکومت نے   پنشن کے بارے میں  ایک  پالیسی اختیار کی ہے کہ ملازم کو اختیار دیتے ہیں کہ آپ پنشن لیتے ہو یا ہمارے پاس چھوڑ دیتے ہو اگر پورا پنشن لیتے  ہو تو بعد میں مثلاپچیس ہزار پنشن ملے گی،اوراگر نہیں لیتے ہوتو آپ کو پنشن ماہانہ زیادہ ملے گی، مثلا اس صورت میں 45 ہزار ملے گی۔تو کیا اس پنشن کو حکومت کے پاس چھوڑ کرما ہانہ پنشن زیادہ لینا جائز ہے؟نیزاس میں یہ شرائط بھی ہو تی ہیں کہ 12 سال تک آپ یہ پنشن واپس نہیں لے سکتے اور اگر اس دوران ملازم وفات پا جائے تو صرف بیوی یہ پنشن لے سکتی ہے۔

جواب

  واضح رہے کہ پنشن حکومت کی جانب سے سرکاری ملازم کے لیے ایک عطیہ ہوتا ہے عموماً پنشن ملازم  کی زندگی میں اس کو ملتا رہتا ہے اور اس کی وفات کے بعد قوانین کے مطابق یہ پنشن کسی وارث کے نام کر دیا جاتا ہے۔

 لہذا صورت  مسئولہ کے مطابق  اگرحکومت ملازم کو پنشن کی یکمشت رقم چھوڑ کرما ہا نہ زیادہ  مقدار میں  پنشن لینے کااختیار دے،تو ملازم کو حکومت کی طرف سے ملنے والا اضا فی رقم  لینا جائز ہو گا ،کیونکہ پنشن بہر حال عطیہ ہے  خواہ یکمشت ہو یاما ہانہ  اور خواہ کم مقدار میں  ہو یا زیادہ مقدار میں ۔

 

الهدية هي المال الذي يعطى لأحد أو يرسل إليه إكراما له."(شرح المجلةلسليم رستم باز، الكتاب السابع في الهبة، المادة: 834،ج: 1،ص: 366)


فتویٰ نمبر : 6257/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں