بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سیلزمین کی تنخواہ سے ہلا ک شدہ مال کی تلافی


سوال

کمپنی کی جانب سے سیلز مین کو یہ اجازت ہوتی ہے کہ وہ بااعتماد اور بڑے گاہکوں پراسٹاک فروخت کرکے اس کی قیمت قسطوں میں وصول کرسکتاہے۔  تاہم قسطوں کی وصولی کے دوران اگر کوئی گاہک غائب ہو جائے تووہ رقم سیلز مین کے ذمہ ہوگی۔ کمپنی ہرمہینے سیلز مین کی تنخواہ میں سے کچھ رقم کاٹ لیتی ہے۔ بعد میں اگر گاہک مل جائےاور بقایاجات ادا کرے،تو کمپنی وہ رقم سیلزمین کوواپس کردیتی ہے۔ شرعاً کمپنی کا یہ اصول درست ہے یا نہیں؟

جواب

 سیلزمین کی شرعی حیثیت اجیر خاص کی ہے اوراجیرخاص کے ہاتھ مالک کا مال امانت ہوتاہےلہذا اگرسیلزمین کے ہاتھ سے کوئی چیزبغیر کسی کوتاہی اور لاپروائی کے ضائع ہوجائے تواس کا ضمان سیلزمین پرلازم نہیں ہو تا،البتہ اگرسیلزمین کی کسی ایسی حرکت سے وہ چیزضائع ہوجائے جس کی مالک نے نہ صراحۃً اجازت دی ہو،اور نہ دلالۃً یا سیلزمین کی کوتاہی اور لاپروائی کی وجہ سے  کوئی  چیزضائع ہوجائے تواس میں ضمان سیلزمین  پر آئے گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سیلزمین مارکیٹ میں ایسے گاہکوں کو قسطوں پر مال دے رہا ہو،جن پرمارکیٹ میں اعتماد ہو،،نیز ان کی ظاہری حالت سے بھی وہ  درست معلوم ہوتے ہوں،اور اس جیسے گاہکوں کے لیے مالک کی طرف سے قسطوں  پرمال دینے کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت موجود ہو،توایسے گاہکوں کو اگر سیلزمین قسط پر مال دے اور بعد میں وہ گاہک کسی وجہ سے غائب ہوجائے توا س صورت میں سیلزمین کو ذمہ دار ٹھہرانا جائزنہیں،تاہم اگر سیلزمین غفلت  وکوتا ہی سے ایسے گاہک کو قسطوں پرمال دے،جو قابل اعتماد نہ ہواور مالک کی طرف سے ان گاہکوں کو قسطوں پر مال دینے کی اجازت بھی نہ ہو توایسی صورت میں اگر وہ گاہک غائب ہوجائےتو کمپنی سیلزمین کی تنخواہ سے اس نقصان کی تلافی کرسکتی ہے۔        

 

(‌والخاص ‌يستحق ‌الأجر ‌بتسليم ‌نفسه ‌في ‌المدة، وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) أي الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل۔(تبیین الحقائق،باب ضمان الاجیر،ج:5،ص:137)

لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير أو تقصيره يضمن.(مجلة الأحكام العدلية،كتاب الأجارات،فصل ثالث،فی ضمان الأجیر۔مادہ رقم:607،ج:2،ص:113)

تعدي الأجير هو أن يعمل عملا أو يتحرك حركة مخالفتين لأمر الآجر صراحة أو دلالة.(مجلة الأحكام العدلية،ج:2،ص:113)

 


فتویٰ نمبر : 3778/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں