بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد بنانے یا والدین کو عمرہ پر بھیجنے کا کہنا


سوال

ایک شخص نے کہا کہ میں مسجد بناؤں گایا والدین کو عمرہ پر بھیجوں گا ،دونوں باتوں پر تکلم کیا ۔اب اس مرد کے پاس اتنی رقم  ہےکہ والدین کو عمرہ پر بھیجے اور کچھ رقم (جو باقی رہ جائے) وہ مسجد میں دے دے۔تو کیاایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ منت ماننے کے لیے یہ ضروری ہے جس چیز کی منت مانی جائے اس کی جنس میں سے کوئی  عبادت واجب ہو،نیز اگر کوئی صرف ارادہ یا رغبت کے طور پر کسی نیک کام کے کرنے کے بارے میں کچھ کہےاور نذر والے الفاظ نہ کہے ہوں،تو محض نيك ارادہ سے وہ کام شرعی طور پر نذر کی طرح لازم نہیں ہوتا، البتہ اس کو پوراکرنا بہتر (مستحب) اور اجر کا باعث ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل نے یہ بات بطورِ نذر کہی تھی کہ وہ مسجد بنائے گا یا والدین کو عمرہ پر بھیجے گا، تو اس پر شرعًا یہ نذر لازم نہیں ؛ کیونکہ مسجد کی تعمیر یا والدین کو عمرہ پر بھیجنا شرعًا نذر کے دائرے میں داخل نہیں۔ اور اگر یہ بات محض نیکی کے جذبے یا نیک ارادے کے طور پر کہی گئی تھی، تب بھی ان امور کو بجا لانا سائل پر واجب نہیں۔البتہ اگر سائل کے پاس اتنی مالی استطاعت موجود ہے کہ وہ اپنے والدین کو عمرہ پر بھیج سکتا ہے یا مسجد کی تعمیر میں کچھ مالی تعاون کر سکتا ہے، یا دونوں کام کرنے کی استطاعت ہے ،تو یہ  نیک اور باعثِ ثواب عمل ہے۔

 

 (ومن نذر) بما هو واجب قصدا من جنسه وهو عبادة مقصودة (نذرا مطلقا) غير معلق بشرط بقرينة التقابل مثل أن يقول لله علي حج أو عمرة أو اعتكاف أو لله علي نذر وأراد به شيئا بعينه كالصدقة، فإن هذه عبادات مقصودة ومن جنسها واجب، وإنما قيد النذر به؛ لأنه لم يلزم الناذر ما ليس من جنسه فرض كقراءة القرآن وصلاة الجنازة.......إلخ.(مجمع الأنهر،كتاب الأيمان،فصل حروف القسم،ج:1،ص:(547

‌النذر ‌عندنا ‌مشروط ‌بشروط ‌خمسة، ‌منها: ‌أن ‌يكون ‌القربة ‌مقصودة، ومنها أنه عمل اللسان لا القلب فقط، وصيغته صيغة الشرط والجزاء، أو لله عليّ، ويفهم من مبسوط السرخسي: أن لفظ علَيَّ فقط أيضاً يكفي للنذر، ومنها أن يكون شيء من جنسه واجباً.(العرف الشذي شرح سنن الترمذي،كتاب النذور و الأيمان،باب ماجاء لا نذر في معصية،ج:3،ص:175،رقم الحدیث:1524)


فتویٰ نمبر : 6262/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں